Showing posts with label شکیل خورشید. Show all posts
Showing posts with label شکیل خورشید. Show all posts

Thursday, 4 April 2024

کب تمنا کوئی ہے جینے میں

 کب تمنا کوئی ہے جینے میں

سانس بس چل رہی ہے سینے میں

کوہ کن ہو تو ڈھونڈ لے دل میں

کیا چھپا ہے مرے دفینے میں

کچھ الٹ جائے سانس کی ترتیب

ایک وحشت ہے اس قرینے میں

Tuesday, 23 January 2024

پل تری یاد کے بہانے کے

 پل تِری یاد کے بہانے کے

ہم نہ بھولے، نہ تھے بھلانے کے

توڑ ڈالوں نہ کیوں سبھی بندھن

ضبط کے، صبر کے، زمانے کے

اب جو بولوں تو کھول کر کہہ دوں

بھید سارے جو تھے چُھپانے کے

Sunday, 17 July 2022

کہانی اک سنانی ہے

کہانی اک سُنانی ہے

جو بیتی ہے بتانی ہے

صحیفہ دردِ پیہم کا

نہیں لِکھا، زبانی ہے

ضروری بات کرنی تھی

اگرچہ کچھ پُرانی ہے

Friday, 19 March 2021

ہم پہ الزام پارسائی ہے

 ہم پہ الزامِ پارسائی ہے

ہائے قسمت تِری دُہائی ہے

کوئی دُشنام ہی نہیں سر پر

کیا کہیں کیسی جگ ہنسائی ہے

اجنبی ہی سہی، سکوں تو ملے

درد! تجھ سے تو آشنائی ہے