کب تمنا کوئی ہے جینے میں
سانس بس چل رہی ہے سینے میں
کوہ کن ہو تو ڈھونڈ لے دل میں
کیا چھپا ہے مرے دفینے میں
کچھ الٹ جائے سانس کی ترتیب
ایک وحشت ہے اس قرینے میں
کب تمنا کوئی ہے جینے میں
سانس بس چل رہی ہے سینے میں
کوہ کن ہو تو ڈھونڈ لے دل میں
کیا چھپا ہے مرے دفینے میں
کچھ الٹ جائے سانس کی ترتیب
ایک وحشت ہے اس قرینے میں
پل تِری یاد کے بہانے کے
ہم نہ بھولے، نہ تھے بھلانے کے
توڑ ڈالوں نہ کیوں سبھی بندھن
ضبط کے، صبر کے، زمانے کے
اب جو بولوں تو کھول کر کہہ دوں
بھید سارے جو تھے چُھپانے کے
کہانی اک سُنانی ہے
جو بیتی ہے بتانی ہے
صحیفہ دردِ پیہم کا
نہیں لِکھا، زبانی ہے
ضروری بات کرنی تھی
اگرچہ کچھ پُرانی ہے
ہم پہ الزامِ پارسائی ہے
ہائے قسمت تِری دُہائی ہے
کوئی دُشنام ہی نہیں سر پر
کیا کہیں کیسی جگ ہنسائی ہے
اجنبی ہی سہی، سکوں تو ملے
درد! تجھ سے تو آشنائی ہے