ہم پہ الزامِ پارسائی ہے
ہائے قسمت تِری دُہائی ہے
کوئی دُشنام ہی نہیں سر پر
کیا کہیں کیسی جگ ہنسائی ہے
اجنبی ہی سہی، سکوں تو ملے
درد! تجھ سے تو آشنائی ہے
کوئی ہمراز گر ملے تو کہیں
بات بھُولی جو یاد آئی ہے
شام اُتری ہے پھر اُداسی کی
کیسی پژمُردگی سی چھائی ہے
اس نگر میں سکوت کے پیچھے
ایک چنگھاڑتی خدائی ہے
اسکی یادوں سے دل میں ہم نے شکیل
روز اک انجمن سجائی ہے
شکیل خورشید
No comments:
Post a Comment