Friday, 19 March 2021

میں اس لیے آنگن کا شجر کاٹ رہا تھا

 میں اس لیے آنگن کا شجر کاٹ رہا تھا

وہ حبس تھا کمروں میں کہ گھر کاٹ رہا تھا

لوگوں کو یہ خدشہ تھا کہ بُنیاد غلط ہے

دیوار کو برسات کا ڈر کاٹ رہا تھا

کانٹوں سے نہیں آبلہ پائی کو شکایت

تلووں کو تو بے فیض سفر کاٹ رہا تھا

ہر شخص مجھے صورتِ اخبار اٹھا کر

صفحات سے مطلب کی خبر کاٹ رہا تھا

کہنے کو تو یوں میری انا قید تھی لیکن

دستار کو اندر سے ہی سرکاٹ رہا تھا

شہ کار کا ثانی ہی نہ بن جائے کہیں اور

اس خوف سے وہ دستِ ہُنر کاٹ رہا تھا


طارق نعیم

No comments:

Post a Comment