Friday, 19 March 2021

ان سے کہہ دو کہ علاج دل شیدا نہ کریں

ان سے کہہ دو کہ علاج دل شیدا نہ کریں 

یہی اچھا ہے کہ بیمار کو اچھا نہ کریں 

کیا کہا پھر تو کہو ہم کوئی شکوا نہ کریں 

چپ رہیں ظلم سہیں ظلم کا چرچا نہ کریں 

یہ تماشا تو کریں رخ سے اٹھا دیں وہ نقاب 

ایک عالم کو مگر محوِ تماشا نہ کریں 

وقت آخر تو نکل جائے تمنا میری 

وہ نہ ایسے میں بھی آئیں کہیں ایسا نہ کریں 

انتہا ہو گئی آزاد دہی کی صیاد 

ہم تصور میں بھی گلزار کو دیکھا نہ کریں 

روز وہ کہتے ہیں آج آئیں گے کل آئیں گے 

ایسے وعدے سے تو بہتر ہے کہ وعدا نہ کریں 

خود نمائی انہیں غیروں میں لئے پھرتی ہے 

ہم تو جب جانیں کہ ہم سے بھی وہ پردا نہ کریں 

تیغ رک جاتی ہے ناوک بھی بہک جاتا ہے 

کوئی بسمل کو یہ سمجھا دے کہ تڑپا نہ کریں 


بسمل الہ آبادی

سکھ دیو پرشاد

No comments:

Post a Comment