راز جونہی زبان سے نکلا
واہمہ امتحان سے نکلا
بات نکلی تِرے مراسم کی
واقعہ آن بان سے نکلا
جھاڑیوں میں چھپا شکاری ایک
اک درندہ مچان سے نکلا
ہِجرتی بے زمین لوگوں کا
کچھ گِلہ آسمان سے نکلا
جو بھی آیا تِرے محلے میں
پھر بہت کھینچ تان سے نکلا
اک تھکن خاک چھان کر آئی
ایک صحرا مکان سے نکلا
گم شدہ ایک وقت کا لمحہ
آج کارِ جہان سے نکلا
شست لینے کا آخری موقع
ناوکِ نِیم جان سے نکلا
کامران نفیس
No comments:
Post a Comment