Friday, 19 March 2021

راز جونہی زبان سے نکلا

 راز جونہی زبان سے نکلا

واہمہ امتحان سے نکلا

بات نکلی تِرے مراسم کی

واقعہ آن بان سے نکلا

جھاڑیوں میں چھپا شکاری ایک

اک درندہ مچان سے نکلا

ہِجرتی بے زمین لوگوں کا

کچھ گِلہ آسمان سے نکلا

جو بھی آیا تِرے محلے میں

پھر بہت کھینچ تان سے نکلا

اک تھکن خاک چھان کر آئی

ایک صحرا مکان سے نکلا

گم شدہ ایک وقت کا لمحہ

آج کارِ جہان سے نکلا

شست لینے کا آخری موقع

ناوکِ نِیم جان سے نکلا


کامران نفیس

No comments:

Post a Comment