Showing posts with label اندرا ورما. Show all posts
Showing posts with label اندرا ورما. Show all posts

Sunday, 20 March 2022

کاش وہ پہلی محبت کے زمانے آتے

 کاش وہ پہلی محبت کے زمانے آتے

چاند سے لوگ مِرا چاند سجانے آتے

رقص کرتی ہوئی پھر باد بہاراں آتی

پھول لے کر وہ مجھے خود ہی بلانے آتے

ان کی تحریر میں الفاظ وہی سب ہوتے

یوں بھی ہوتا کہ کبھی خط بھی پرانے آتے

Wednesday, 12 May 2021

شکستہ دل اندھیری شب اکیلا راہبر کیوں ہو

 شکستہ دل اندھیری شب اکیلا راہبر کیوں ہو

نہ ہو جب ہمسفر کوئی تو اپنا بھی سفر کیوں ہو

کسی کی یاد میں آنسو کا رشتہ اس طرح رکھو

کہ دل پہلو اگر بدلے تو چہرہ تر بتر کیوں ہو

مِرے ہمدم، مِرے دلبر، ذرا اتنا بتا دینا

کوئی بے درد ہو تو درد دل میں اس قدر کیوں ہو

Thursday, 29 April 2021

یہ موسم سرمئی ہے اور میں ہوں

 یہ موسم سرمئی ہے اور میں ہوں

مگر بس خامشی ہے اور میں ہوں

نہ جانے کب وہ بدلے رخ ادھر کو

مسلسل بے رخی ہے اور میں ہوں

تغافل پر تغافل ہو رہے ہیں

کسی کی دل لگی ہے اور میں ہوں

Tuesday, 24 November 2020

ہزار خواب لیے جی رہی ہیں سب آنکھیں

 ہزار خواب لیے جی رہی ہیں سب آنکھیں

ترے بنا ہیں مگر میری بے سبب آنکھیں

چمکتے چاند ☪ ستارو! گواہ تم رہنا

لگی رہی ہیں فلک سے تمام شب آنکھیں

تمہارے سامنے رہتی ہیں نیم وا ہمدم

حیا شناس بہت ہیں یہ با ادب آنکھیں

Monday, 19 December 2016

محبت میں آیا ہے تنہا ابھی رنگ

محبت میں آیا ہے تنہا ابھی رنگ
بدلنے لگی ہے مگر زندگی رنگ
بہاروں کے آنچل میں خوشبو چھپی ہے
گلوں کی صبا میں بھرے ہیں سبھی رنگ
تمہارے بِنا سب ادھورے ہیں جاناں
صبا، پھول، خوشبو، چمن، روشنی، رنگ

شفق کے رنگ نکلنے کے بعد آئی ہے

شفق کے رنگ نکلنے کے بعد آئی ہے
یہ شام دھوپ میں چلنے کے بعد آئی ہے
یہ روشنی تِرے کمرے میں خود نہیں آئی
شمع کا جسم پگھلنے کے بعد آئی ہے
اسی طرح سے رکھو بند میری آنکھیں اب
کہ نیند خواب بدلنے کے بعد آئی ہے

دل کے بے چین جزیروں میں اتر جائے گا

دل کے بے چین جزیروں میں اتر جائے گا 
درد آہوں کے مقدر کا پتہ لائے گا 
میرے بچھڑے ہوئے لمحات سجا کر رکھنا 
وقت لفظوں میں غزل بن کے ٹھہر جائے گا 
اس کی ہر بات جفا پیشہ ہوئی ہے اکثر 
زخم کا خوف کبھی اس کو بھی دہلائے گا 

کبھی مڑ کے پھر اسی راہ پر نہ تو آئے تم نہ تو آئے ہم

کبھی مڑ کے پھر اسی راہ پر، نہ تو آئے تم نہ تو آئے ہم
کبھی فاصلوں کو سمیٹ کر، نہ تو آئے تم نہ تو آئے ہم
جو تمہیں ہے اپنی انا پسند، تو مجھے شرط کا پاس ہے
یہ ضدوں کے سلسلے توڑ کر، نہ تو آئے تم نہ تو آئے ہم
انہیں چاہتوں میں بندھے ہوئے ابھی تم بھی ہو ابھی ہم بھی ہیں
ہے کشش دلوں میں بہت مگر، نہ تو آئے تم نہ تو آئے ہم

اس سے مت کہنا مری بے سر و سامانی تک

اس سے مت کہنا مِری بے سروسامانی تک
وہ نہ آ جائے کہیں مِری پریشانی تک
میں تو کچھ بھی نہیں کرتی ہوں محبت کیلئے
عشق والے تو لٹا دیتے ہیں سلطانی تک
کیسے صحرا میں بھٹکتا ہے مِرا تشنہ لب
کیسی بستی ہے جہاں ملتا نہیں پانی تک 

ابھی سے کیسے کہوں تم کو بے وفا صاحب

ابھی سے کیسے کہوں تم کو بیوفا صاحب
ابھی تو اپنے سفر کی ہے ابتدا صاحب
نہ جانے کتنے لقب دے رہا ہے دل تم کو 
حضور، جان وفا، اور ہم نوا صاحب
تمہاری یاد میں تارے شمار کرتی ہوں
نہ جانے ختم کہاں ہو یہ سلسلہ صاحب

Friday, 30 October 2015

کاش وہ پہلی محبت کے زمانے آتے

کاش وہ پہلی محبت کے زمانے آتے
چاند سے لوگ مِرا چاند سجانے آتے
رقص کرتی ہوئی پھر بادِ بہاراں آتی
پھول لے کر وہ مجھے خود ہی بلانے آتے
ان کی تحریر میں الفاظ وہی سب ہوتے
یوں بھی ہوتا کہ کبھی خط وہ پرانے آتے

ترے خیال کا چرچا ترے خیال کی بات

تِرے خیال کا چرچا تِرے خیال کی بات
شبِ فراق میں پیہم رہی وصال کی بات
تم اپنی چارہ گری کو نہ پھر کرو رُسوا
ہمارے حال پہ چھوڑو ہمارے حال کی بات
کماں سی ابرو کا عالم عجیب ہے دیکھو
فلک کے چاند سے بہتر ہے اس ہلال کی بات

وہ عجیب شخص تھا بھیڑ میں جو نظر میں ایسے اتر گیا

وہ عجیب شخص تھا بھِیڑ میں جو نظر میں ایسے اتر گیا
جسے دیکھ کر مِرے ہونٹ پر مِرا اپنا شعر ٹھہر گیا
کئی شعر اس کی نگاہ سے مِرے رخ پہ آ کے غزل بنے
وہ نِرالا طرزِ پیام تھا جو سخن کی حد سے گزر گیا
وہ ہر ایک لفظ میں چاند تھا، وہ ہر ایک حرف میں نور تھا
وہ چمکتے مصرعوں کا عکس تھا جو غزل میں خود ہی سنور گیا

مجھے رنگ دے نہ سرور دے مرے دل میں خود کو اتار دے

مجھے رنگ دے نہ سرور دے مِرے دل میں خود کو اتار دے
مِرے لفظ سارے مہک اٹھیں، مجھے ایسی کوئی بہار دے
مجھے دھوپ میں تُو قریب کر، مجھے سایہ اپنا نصیب کر
مِری نکہتوں کو عروج دے مجھے پھول جیسا وقار دے
مِری بکھری حالتِ زار ہے، نہ تو چین ہے نہ قرار ہے
مجھے لمس اپنا نواز کے، مِرے جسم و جاں کو نِکھار دے