کاش وہ پہلی محبت کے زمانے آتے
چاند سے لوگ مِرا چاند سجانے آتے
رقص کرتی ہوئی پھر باد بہاراں آتی
پھول لے کر وہ مجھے خود ہی بلانے آتے
ان کی تحریر میں الفاظ وہی سب ہوتے
یوں بھی ہوتا کہ کبھی خط بھی پرانے آتے
کاش وہ پہلی محبت کے زمانے آتے
چاند سے لوگ مِرا چاند سجانے آتے
رقص کرتی ہوئی پھر باد بہاراں آتی
پھول لے کر وہ مجھے خود ہی بلانے آتے
ان کی تحریر میں الفاظ وہی سب ہوتے
یوں بھی ہوتا کہ کبھی خط بھی پرانے آتے
شکستہ دل اندھیری شب اکیلا راہبر کیوں ہو
نہ ہو جب ہمسفر کوئی تو اپنا بھی سفر کیوں ہو
کسی کی یاد میں آنسو کا رشتہ اس طرح رکھو
کہ دل پہلو اگر بدلے تو چہرہ تر بتر کیوں ہو
مِرے ہمدم، مِرے دلبر، ذرا اتنا بتا دینا
کوئی بے درد ہو تو درد دل میں اس قدر کیوں ہو
یہ موسم سرمئی ہے اور میں ہوں
مگر بس خامشی ہے اور میں ہوں
نہ جانے کب وہ بدلے رخ ادھر کو
مسلسل بے رخی ہے اور میں ہوں
تغافل پر تغافل ہو رہے ہیں
کسی کی دل لگی ہے اور میں ہوں
ہزار خواب لیے جی رہی ہیں سب آنکھیں
ترے بنا ہیں مگر میری بے سبب آنکھیں
چمکتے چاند ☪ ستارو! گواہ تم رہنا
لگی رہی ہیں فلک سے تمام شب آنکھیں
تمہارے سامنے رہتی ہیں نیم وا ہمدم
حیا شناس بہت ہیں یہ با ادب آنکھیں