کبھی مڑ کے پھر اسی راہ پر، نہ تو آئے تم نہ تو آئے ہم
کبھی فاصلوں کو سمیٹ کر، نہ تو آئے تم نہ تو آئے ہم
جو تمہیں ہے اپنی انا پسند، تو مجھے شرط کا پاس ہے
یہ ضدوں کے سلسلے توڑ کر، نہ تو آئے تم نہ تو آئے ہم
انہیں چاہتوں میں بندھے ہوئے ابھی تم بھی ہو ابھی ہم بھی ہیں
شبِ وصل بھی شبِ ہجر ہے، شبِ ہجر اب تو ہے مستقل
یہی سوچنے میں ہوئی سحر، نہ تو آئے تم نہ تو آئے ہم
وہ جھروکے پردے میں بند ہیں، وہ تمام گلیاں اداس ہیں
کبھی خواب میں سرِ رہگزر، نہ تو آئے تم نہ تو آئے ہم
اسی شہر کی اسی راہ پر، تھے ہمارے گھر بھی قریب تر
یونہی گھومتے رہے عمر بھر، نہ تو آئے تم نہ تو آئے ہم
کبھی اتفاق سے مل گئے، کسی شہر کے کسی موڑ پر
یہ تو کہہ اٹھے گی نظر نظر، کیوں نہ آئے تم کیوں نہ آئے ہم
اندرا ورما
No comments:
Post a Comment