Showing posts with label احمد کامران. Show all posts
Showing posts with label احمد کامران. Show all posts

Tuesday, 7 June 2022

ایسے یکلخت نہ وجدان میں آ

 ایسے یکلخت نہ وجدان میں آ

تھوڑا تاخیر سے پہچان میں آ

دیکھتی کیا ہے زمانے کی طرف

اے نظر! لوٹ، گریبان میں آ

ہاں مجھے یوں بڑی آسانی ہے

شعر ہو ہو کے مِرے دھیان میں آ

Thursday, 29 April 2021

تمہارے ہجر کو کافی نہیں سمجھتا میں

 تمہارے ہجر کو کافی نہیں سمجھتا میں

کسی ملال کو حتمی نہیں سمجھتا میں

یہ اور بات کہ عاری ہے دل محبت سے

یہ دُکھ سوا ہے کہ عاری نہیں سمجھتا میں

چلا ہے رات کے ہمراہ چھوڑ کر مجھ کو

چراغ اس کو تو یاری نہیں سمجھتا میں

Saturday, 3 April 2021

زندہ رہنے کا تقاضا نہیں چھوڑا جاتا

 زندہ رہنے کا تقاضا نہیں چھوڑا جاتا

ہم نے تجھ کو نہیں چھوڑا، نہیں چھوڑا جاتا

عین ممکن ہے تِرے ہجر سے مل جائے نجات

کیا کریں یار! یہ صحرا نہیں چھوڑا جاتا

چھوڑ جاتی ہے بدن روح بھی جاتے جاتے

قید سے کوئی بھی پورا نہیں چھوڑا جاتا

Sunday, 21 March 2021

خواب یوں ہی نہیں ہوتے پورے

 خواب یوں ہی نہیں ہوتے پورے

جان و تن لگتے ہیں پورے پورے

راس آئے گی محبت اس کو

جس سے ہوتے نہیں وعدے پورے

چھوڑ آئے تِرے حصے کے دوست

ہم نے منظر نہیں دیکھے پورے

Sunday, 21 February 2021

خشت در خشت اک آزار میں رکھا ہوا ہے

 خِشت در خِشت اک آزار میں رکھا ہوا ہے

اس نے دل میں نہیں، دیوار میں رکھا ہوا ہے

اے محبت کی نموداری پہ خوش ہوتے دل

عرصۂ ہجر بھی آثار میں رکھا ہوا ہے

ہر گھڑی گِریہ، عزاداری، دعائیں، ماتم

وقت نے شام کے بازار میں رکھا ہوا ہے

Friday, 19 February 2021

کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہیے ہے

 کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہیے ہے 

شاہزادی! مجھے دربار نہیں چاہیے ہے 

آخری اشک سے اس سوگ کی تکمیل ہوئی 

اب مجھے کوئی عزا دار نہیں چاہیے ہے 

اس تکلف سے زیادہ کا طلبگار ہوں میں 

صرف یہ سایۂ دیوار نہیں چاہیے ہے 

Thursday, 18 February 2021

مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں

 مٹی سے بغاوت، نہ بغاوت سے گریزاں

ہم سہمے ہوئے لوگ ہیں ہمت سے گریزاں

اک پَل کا توقف بھی گراں بار ہے تجھ پر

اور ہم کہ تھکے ہارے مسافت سے گریزاں

اے بھولے ہوئے ہجر کہیں مل تو سہی یار

اک دوجے سے ہم دونوں ہیں مدت سے گریزاں

Monday, 8 February 2021

تیرے حصے کے بھی صدمات اٹھا لیتا ہوں

 تیرے حصے کے بھی صدمات اٹھا لیتا ہوں

آ تجھے آنکھوں پہ اے رات اٹھا لیتا ہوں

عام سا شخص بچے گا تو اگر میں تیرے

خال و خد سے یہ طلسمات اٹھا لیتا ہوں

تُو نے اے عشق یہ سوچا کہ تِرا کیا ہو گا

تیرے سر سے میں اگر ہاتھ اٹھا لیتا ہوں

Thursday, 28 January 2021

رنج متروک نگل اور نکل

 رنجِ متروک نِگل، اور نِکل

صبر کر، تُھوک نگل، اور نکل

غور سے دیکھ اسے آخری بار

اے دلا! ہُوک نگل، اور نکل

عشق میں کارِ ہوس؟ استغفار

جسم کی بُھوک نگل، اور نکل

Tuesday, 26 January 2021

تو زیادہ میں سے باہر نہیں آیا کرتا

تُو زیادہ میں سے باہر نہیں آیا کرتا

میں زیادہ کو میسّر نہیں آیا کرتا

میں تِرا وقت ہوں اور روٹھ کے جانے لگا ہوں

روک لے یار! میں جا کر نہیں آیا کرتا

اے پلٹ آنے کی خواہش یہ ذرا دھیان میں رکھ

جنگ سے کوئی برابر نہیں آیا کرتا