ایسے یکلخت نہ وجدان میں آ
تھوڑا تاخیر سے پہچان میں آ
دیکھتی کیا ہے زمانے کی طرف
اے نظر! لوٹ، گریبان میں آ
ہاں مجھے یوں بڑی آسانی ہے
شعر ہو ہو کے مِرے دھیان میں آ
ایسے یکلخت نہ وجدان میں آ
تھوڑا تاخیر سے پہچان میں آ
دیکھتی کیا ہے زمانے کی طرف
اے نظر! لوٹ، گریبان میں آ
ہاں مجھے یوں بڑی آسانی ہے
شعر ہو ہو کے مِرے دھیان میں آ
تمہارے ہجر کو کافی نہیں سمجھتا میں
کسی ملال کو حتمی نہیں سمجھتا میں
یہ اور بات کہ عاری ہے دل محبت سے
یہ دُکھ سوا ہے کہ عاری نہیں سمجھتا میں
چلا ہے رات کے ہمراہ چھوڑ کر مجھ کو
چراغ اس کو تو یاری نہیں سمجھتا میں
زندہ رہنے کا تقاضا نہیں چھوڑا جاتا
ہم نے تجھ کو نہیں چھوڑا، نہیں چھوڑا جاتا
عین ممکن ہے تِرے ہجر سے مل جائے نجات
کیا کریں یار! یہ صحرا نہیں چھوڑا جاتا
چھوڑ جاتی ہے بدن روح بھی جاتے جاتے
قید سے کوئی بھی پورا نہیں چھوڑا جاتا
خواب یوں ہی نہیں ہوتے پورے
جان و تن لگتے ہیں پورے پورے
راس آئے گی محبت اس کو
جس سے ہوتے نہیں وعدے پورے
چھوڑ آئے تِرے حصے کے دوست
ہم نے منظر نہیں دیکھے پورے
خِشت در خِشت اک آزار میں رکھا ہوا ہے
اس نے دل میں نہیں، دیوار میں رکھا ہوا ہے
اے محبت کی نموداری پہ خوش ہوتے دل
عرصۂ ہجر بھی آثار میں رکھا ہوا ہے
ہر گھڑی گِریہ، عزاداری، دعائیں، ماتم
وقت نے شام کے بازار میں رکھا ہوا ہے
کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہیے ہے
شاہزادی! مجھے دربار نہیں چاہیے ہے
آخری اشک سے اس سوگ کی تکمیل ہوئی
اب مجھے کوئی عزا دار نہیں چاہیے ہے
اس تکلف سے زیادہ کا طلبگار ہوں میں
صرف یہ سایۂ دیوار نہیں چاہیے ہے
مٹی سے بغاوت، نہ بغاوت سے گریزاں
ہم سہمے ہوئے لوگ ہیں ہمت سے گریزاں
اک پَل کا توقف بھی گراں بار ہے تجھ پر
اور ہم کہ تھکے ہارے مسافت سے گریزاں
اے بھولے ہوئے ہجر کہیں مل تو سہی یار
اک دوجے سے ہم دونوں ہیں مدت سے گریزاں
تیرے حصے کے بھی صدمات اٹھا لیتا ہوں
آ تجھے آنکھوں پہ اے رات اٹھا لیتا ہوں
عام سا شخص بچے گا تو اگر میں تیرے
خال و خد سے یہ طلسمات اٹھا لیتا ہوں
تُو نے اے عشق یہ سوچا کہ تِرا کیا ہو گا
تیرے سر سے میں اگر ہاتھ اٹھا لیتا ہوں
رنجِ متروک نِگل، اور نِکل
صبر کر، تُھوک نگل، اور نکل
غور سے دیکھ اسے آخری بار
اے دلا! ہُوک نگل، اور نکل
عشق میں کارِ ہوس؟ استغفار
جسم کی بُھوک نگل، اور نکل
تُو زیادہ میں سے باہر نہیں آیا کرتا
میں زیادہ کو میسّر نہیں آیا کرتا
میں تِرا وقت ہوں اور روٹھ کے جانے لگا ہوں
روک لے یار! میں جا کر نہیں آیا کرتا
اے پلٹ آنے کی خواہش یہ ذرا دھیان میں رکھ
جنگ سے کوئی برابر نہیں آیا کرتا