Showing posts with label شاہجہان سالف. Show all posts
Showing posts with label شاہجہان سالف. Show all posts

Monday, 17 October 2022

فضائے چشم سے آخر غبار ختم ہوا

 فضائے چشم سے آخر غبار ختم ہوا

جہاں جہاں تھا مِرا انتظار، ختم ہوا

لہو کی سست روی نے بتا دیا ہے مجھے

سفر تمام ہوا، ریگزار ختم ہوا

میں فائدے میں بھی نقصان ڈھونڈ لیتا تھا

سو ہاتھ تنگ ہوا،۔ کاروبار ختم ہوا

Wednesday, 5 October 2022

ہم کبھی ریت کے ٹیلوں کی طرف دیکھتے ہیں

 ہم کبھی ریت کے ٹیلوں کی طرف دیکھتے ہیں 

اور کبھی گھورتی چیلوں کی طرف دیکھتے ہیں 

ان سے جب پوچھتے ہیں شہر سے جانے کا سبب 

وہ بہت دیر فصیلوں کی طرف دیکھتے ہیں

اپنے ناکردہ پہ ہوتے ہیں پشیمان بہت

جب کٹہرے سے وکیلوں کی طرف دیکھتے ہیں

Monday, 3 October 2022

عجیب خواب تھا دونوں تھے اک لباس میں ہم

 عجیب خواب تھا دونوں تھے اک لباس میں ہم

بجھے پڑے تھے دِیے اور ان کے پاس میں ہم

اک ایک پل کی خبر ہے ہمیں ان آنکھوں کی

کئی برس سے ہیں اس قریۂ اداس میں ہم

پرندگان انہیں گھونسلوں میں لے گئے تھے

تلاش کرتے رہے جگنووں کو گھاس میں ہم

Tuesday, 30 August 2022

جہاں جہاں بھی ہوا ظلم سب کی بات کریں

عراق و دیبل و مصر و عرب کی بات کریں

جہاں جہاں بھی ہوا ظلم سب کی بات کریں

کچھ ایسے لوگ جو دھیمے سُروں میں سوچتے ہیں

عجب نہیں جو کریں تو غضب کی بات کریں

قلیل وقت ہے، کرنے کو سینکڑوں باتیں

کہاں کا ذکر کریں، اور کب کی بات کریں

Thursday, 28 July 2022

ہوا کا زور تھا اشجار شور کرنے لگے

ہوا کا زور تھا اشجار شور کرنے لگے

میں چل پڑا تو مِرے یار شور کرنے لگے

تُنک مزاج ہوا گرد اُڑانے آئی تھی

چراغ طاق میں بیکار شور کرنے لگے

ہمیں تو کر دیا خاموش حُسنِ یوسف نے

ہماری جیب کے دینار شور کرنے لگے