فضائے چشم سے آخر غبار ختم ہوا
جہاں جہاں تھا مِرا انتظار، ختم ہوا
لہو کی سست روی نے بتا دیا ہے مجھے
سفر تمام ہوا، ریگزار ختم ہوا
میں فائدے میں بھی نقصان ڈھونڈ لیتا تھا
سو ہاتھ تنگ ہوا،۔ کاروبار ختم ہوا
فضائے چشم سے آخر غبار ختم ہوا
جہاں جہاں تھا مِرا انتظار، ختم ہوا
لہو کی سست روی نے بتا دیا ہے مجھے
سفر تمام ہوا، ریگزار ختم ہوا
میں فائدے میں بھی نقصان ڈھونڈ لیتا تھا
سو ہاتھ تنگ ہوا،۔ کاروبار ختم ہوا
ہم کبھی ریت کے ٹیلوں کی طرف دیکھتے ہیں
اور کبھی گھورتی چیلوں کی طرف دیکھتے ہیں
ان سے جب پوچھتے ہیں شہر سے جانے کا سبب
وہ بہت دیر فصیلوں کی طرف دیکھتے ہیں
اپنے ناکردہ پہ ہوتے ہیں پشیمان بہت
جب کٹہرے سے وکیلوں کی طرف دیکھتے ہیں
عجیب خواب تھا دونوں تھے اک لباس میں ہم
بجھے پڑے تھے دِیے اور ان کے پاس میں ہم
اک ایک پل کی خبر ہے ہمیں ان آنکھوں کی
کئی برس سے ہیں اس قریۂ اداس میں ہم
پرندگان انہیں گھونسلوں میں لے گئے تھے
تلاش کرتے رہے جگنووں کو گھاس میں ہم
عراق و دیبل و مصر و عرب کی بات کریں
جہاں جہاں بھی ہوا ظلم سب کی بات کریں
کچھ ایسے لوگ جو دھیمے سُروں میں سوچتے ہیں
عجب نہیں جو کریں تو غضب کی بات کریں
قلیل وقت ہے، کرنے کو سینکڑوں باتیں
کہاں کا ذکر کریں، اور کب کی بات کریں
ہوا کا زور تھا اشجار شور کرنے لگے
میں چل پڑا تو مِرے یار شور کرنے لگے
تُنک مزاج ہوا گرد اُڑانے آئی تھی
چراغ طاق میں بیکار شور کرنے لگے
ہمیں تو کر دیا خاموش حُسنِ یوسف نے
ہماری جیب کے دینار شور کرنے لگے