Showing posts with label کرم حیدری. Show all posts
Showing posts with label کرم حیدری. Show all posts

Tuesday, 22 February 2022

میں دشت زندگی کو چلا تھا نکھارنے

 میں دشت زندگی کو چلا تھا نکھارنے

اک قہقہہ لگایا گزرتی بہار نے

گزرا ہوں جب سلگتے ہوئے نقش چھوڑتا

دیکھا ہے مجھ کو غور سے ہر رہگزار نے

مے کش نے جام زہر ہی منہ سے لگا لیا

پاگل بنا دیا جو نشے کے اتار نے

Friday, 21 May 2021

اداس لمحوں میں آخر وہ مل گیا تھا مجھے

 اداس لمحوں میں آخر وہ مل گیا تھا مجھے

مری ہی آنکھوں کی چلمن سے جھانکا تھا مجھے

وہ قربتوں کی تمازت سے جل رہا تھا کچھ اور

وہ آنسوؤں کی جھڑی سے بُجھا رہا تھا مجھے

لپٹ کے مجھ سے بڑی سادگی کے لہجے میں

نہ جانے کس کے فسانے سنا رہا تھا مجھے

Monday, 12 October 2020

زمانہ گزرا ہے دل میں یہ آرزو کرتے

 زمانہ گزرا ہے دل میں یہ آرزُو کرتے

کہ تیرے اشکِ ندامت سے ہم وضو کرتے

لہو سفید ہوا تھا سب اہلِ دنیا کا

ہم اپنے خون سے کس کس کو سرخرو کرتے

یہی تو ایک تمنا رہی دِوانوں کی

کبھی کبھی تِرے کوچے میں ہاؤ ہو کرتے

Sunday, 23 August 2020

دل میں طوفان اٹھاتے ہوئے جذبات بھی ہیں

دل میں طوفان اٹھاتے ہوئے جذبات بھی ہیں
ہم ہیں خاموش کہ کچھ اپنی روایات بھی ہیں
محتسب ہی سے نہیں نالہ بہ لب جام و سبو
سنگ اٹھائے ہوئے خود اہلِ خرابات بھی ہیں
مستیوں میں کبھی مل جاتے ہیں انساں اب بھی
جیسے صحراؤں میں، شاداب مقامات بھی ہیں

سب سے پہلے مشیت کے انوار سے نقش روئے محمد بنایا گیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

سب سے پہلے مشیت کے انوار سے نقشِ رُوئے محمدﷺ بنایا گیا
پھر اسی نقش سے لے کے کچھ روشنی، بزمِ کون و مکاں کو سجایا گیا
وہ چراغِ محبتﷺ جو روز ازل، خلوتِ لامکاں میں جلایا گیا
نور سے اس کے آخر جہاں تا جہاں ذرے ذرے کا دل جگمگایا گیا
وہ محمدؐ بھی احمدؐ بھی محمودؐ بھی حسنِ مطلق کا شاہد بھی مشہود بھی
علم و حکمت میں وہ غیر محدود بھی، ظاہراً اُمیوں میں اٹھایا گیا

Tuesday, 6 December 2016

اے وطن پیارے وطن پاک وطن پاک وطن

ملی نغمہ

اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن، پاک وطن
اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن، پاک وطن

تجھ سے ہے میری تمناؤں کی دنیا پُرنور
عزم میرا قوی، میرے ارادے ہیں غیور
میری ہستی میں انا ہے، میری مستی میں شعور
جاں فزا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن

Saturday, 14 November 2015

اس گلستاں میں ہم بھی متاع بہار ہیں

اس گلستاں میں ہم بھی متاعِ بہار ہیں
سمجھو تو شاخِ گل ہیں نہ سمجھو تو خار ہیں
صحرا کی آبرو ہیں، چمن کا نکھار ہیں
ہم ہیں جہاں بھی، سایۂ ابرِ بہار ہیں
دیکھا ہے ہم نے ان کی نگاہوں میں جھانک کر
جو اہلِ دل کہ حسن کے پروردگار ہیں

ہم کس شب سیاہ کے دامن میں بس گئے

ہم کس شبِ سیاہ کے دامن میں بس گئے
تیری ضیائے رخ کو دل و جاں ترس گئے
گیسو نگارِ زیست کے سمجھے تھے ہم جنہیں
وہ بن کے ناگ روحِ محبت کا ڈس گئے
مرجھا رہی ہیں اپنی امنگوں کی کونپلیں
بادل نجانے کون سی جانب برس گئے

عمر ہے جنگل ہم ہیں شکار اور ظالم وقت شکاری ہے

عمر ہے جنگل، ہم ہیں شکار اور ظالم وقت شکاری ہے
دن تو جوں توں کٹ ہی گیا ہے، رات کی منزل بھاری ہے
صدیوں سے ہر روز گرائے کیسے کیسے شاہ سوار
دنیا پھر ویسی کی ویسی الھڑ مست سواری ہے
اپنا آپ گنوا کر ہم نے پایا، تو اتنا ہی پایا
برسوں کی محنت کے مقابل لمحوں کی غفلت بھاری ہے

بقدر خواہش دل ہو سکی نہ بات اس کی

بقدرِ خواہشِ دل ہو سکی نہ بات اس کی
کہ میری سوچ سے بھی خوب تر تھی ذات اس کی
تمام جذبوں کی پاکیزگی کا حاصل تھی
اٹھی جو میری طرف چشمِ التفات اس کی
وہ بے کراں تھا مگر یوں سما گیا مجھ میں
کہ جیسے دل ہی تو میرا تھا کائنات اس کی