میں دشت زندگی کو چلا تھا نکھارنے
اک قہقہہ لگایا گزرتی بہار نے
گزرا ہوں جب سلگتے ہوئے نقش چھوڑتا
دیکھا ہے مجھ کو غور سے ہر رہگزار نے
مے کش نے جام زہر ہی منہ سے لگا لیا
پاگل بنا دیا جو نشے کے اتار نے
میں دشت زندگی کو چلا تھا نکھارنے
اک قہقہہ لگایا گزرتی بہار نے
گزرا ہوں جب سلگتے ہوئے نقش چھوڑتا
دیکھا ہے مجھ کو غور سے ہر رہگزار نے
مے کش نے جام زہر ہی منہ سے لگا لیا
پاگل بنا دیا جو نشے کے اتار نے
اداس لمحوں میں آخر وہ مل گیا تھا مجھے
مری ہی آنکھوں کی چلمن سے جھانکا تھا مجھے
وہ قربتوں کی تمازت سے جل رہا تھا کچھ اور
وہ آنسوؤں کی جھڑی سے بُجھا رہا تھا مجھے
لپٹ کے مجھ سے بڑی سادگی کے لہجے میں
نہ جانے کس کے فسانے سنا رہا تھا مجھے
زمانہ گزرا ہے دل میں یہ آرزُو کرتے
کہ تیرے اشکِ ندامت سے ہم وضو کرتے
لہو سفید ہوا تھا سب اہلِ دنیا کا
ہم اپنے خون سے کس کس کو سرخرو کرتے
یہی تو ایک تمنا رہی دِوانوں کی
کبھی کبھی تِرے کوچے میں ہاؤ ہو کرتے