Friday, 21 May 2021

اداس لمحوں میں آخر وہ مل گیا تھا مجھے

 اداس لمحوں میں آخر وہ مل گیا تھا مجھے

مری ہی آنکھوں کی چلمن سے جھانکا تھا مجھے

وہ قربتوں کی تمازت سے جل رہا تھا کچھ اور

وہ آنسوؤں کی جھڑی سے بُجھا رہا تھا مجھے

لپٹ کے مجھ سے بڑی سادگی کے لہجے میں

نہ جانے کس کے فسانے سنا رہا تھا مجھے

اسے یہ غم کہ تھا یادوں کے کرب میں‌تنہا

مجھے یہ شکوہ کہ اس نے بھُلا دیا تھا مجھے

میں خود ہی خواب جزیروں میں ‌گُم رہا شاید

وہ لہر لہر میں ورنہ پکارتا تھا مجھے

عجیب عالمِ وارفتگی میں ڈُوبا ہوا

بڑے قرینے سے پھر آزما رہا تھا مجھے

مگر یہ کیسا تحیر تھا اس کی آنکھوں میں

کہ دیکھتا تھا مجھے جیسے سوچتا تھا مجھے

نہ جانے کتنے نئے وسوسوں کا ناگ کرم

اُتر کے میری رگ و پے میں ڈس رہا تھا مجھے


کرم حیدری

No comments:

Post a Comment