رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے
پھول ہنستے ہوئے نکلے ہیں نہاں خانوں سے
لاکھ ارمانوں کے اجڑے ہوئے گھر ہیں دل میں
یہ وہ بستی ہے کہ آباد ہے ویرانوں سے
لالہ زاروں میں جب آتی ہیں بہاریں ساقی
آگ لگ جاتی ہے ظالم ترے پیمانوں سے
رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے
پھول ہنستے ہوئے نکلے ہیں نہاں خانوں سے
لاکھ ارمانوں کے اجڑے ہوئے گھر ہیں دل میں
یہ وہ بستی ہے کہ آباد ہے ویرانوں سے
لالہ زاروں میں جب آتی ہیں بہاریں ساقی
آگ لگ جاتی ہے ظالم ترے پیمانوں سے
اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی
ضیا کچھ کچھ ہے تاروں میں سحر کی
ہوئے رخصت جہاں سے صبح ہوتے
کہانی ہجر میں یوں مختصر کی
تڑپ اٹھے لحد میں سونے والے
زمیں کی سمت یوں تم نے نظر کی
پریشانی ہے جی گھبرا رہا ہے
کوئی دھیمے سروں میں گا رہا ہے
کہوں کیا حال ناکام محبت
تمناؤں سے جی بہلا رہا ہے
کوئی شب کی خموشی میں ہے گریاں
تصور میں کوئی سمجھا رہا ہے
چاندنی افسردہ بھی ہے زرد بھی
چھن رہا ہے ہلکا ہلکا درد بھی
دل کی دھڑکن گویا دل کو چھوڑ کر
منتشر ہے چاندنی کے فرش پر
کچھ پریشانی ہے ایسی ماہ میں
جیسے کھو جائے مسافر راہ میں