Showing posts with label افسر میرٹھی. Show all posts
Showing posts with label افسر میرٹھی. Show all posts

Sunday, 6 April 2025

رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے

 رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے

پھول ہنستے ہوئے نکلے ہیں نہاں خانوں سے

لاکھ ارمانوں کے اجڑے ہوئے گھر ہیں دل میں

یہ وہ بستی ہے کہ آباد ہے ویرانوں سے

لالہ زاروں میں جب آتی ہیں بہاریں ساقی

آگ لگ جاتی ہے ظالم ترے پیمانوں سے

Monday, 17 June 2024

اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی

 اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی

ضیا کچھ کچھ ہے تاروں میں سحر کی

ہوئے رخصت جہاں سے صبح ہوتے

کہانی ہجر میں یوں مختصر کی

تڑپ اٹھے لحد میں سونے والے

زمیں کی سمت یوں تم نے نظر کی

Saturday, 10 July 2021

پریشانی ہے جی گھبرا رہا ہے

پریشانی ہے جی گھبرا رہا ہے

کوئی دھیمے سروں میں گا رہا ہے

کہوں کیا حال ناکام محبت

تمناؤں سے جی بہلا رہا ہے

کوئی شب کی خموشی میں ہے گریاں

تصور میں کوئی سمجھا رہا ہے

Sunday, 28 February 2021

چاندنی افسردہ بھی ہے زرد بھی

 چاندنی افسردہ بھی ہے زرد بھی

چھن رہا ہے ہلکا ہلکا درد بھی

دل کی دھڑکن گویا دل کو چھوڑ کر

منتشر ہے چاندنی کے فرش پر

کچھ پریشانی ہے ایسی ماہ میں

جیسے کھو جائے مسافر راہ میں