Showing posts with label افروز عالم. Show all posts
Showing posts with label افروز عالم. Show all posts

Monday, 2 October 2023

ہمیشہ ہجرتوں کے سلسلے اچھے نہیں لگتے

 ہمیشہ ہجرتوں کے سلسلے اچھے نہیں لگتے

ہمیں اب روکھے پھیکے ذائقے اچھے نہیں لگتے

ستارے ان کی منزل کا کبھی عنواں نہیں بنتے

جنہیں پُر خار تنہا راستے اچھے نہیں لگتے

مجھے اڑ جانے دے تاکہ فضا کا جائزہ لے لوں

سنہری پٹیوں سے پر بندھے اچھے نہیں لگتے

Thursday, 21 April 2022

جگر کو خون کئے دل کو بے قرار ابھی

 جگر کو خون کئے دل کو بے قرار ابھی

بھٹک رہے ہیں تِرے عشق میں ہزار ابھی

اسی لیے تو یہ دنیا دُھلی دُھلی سی لگے

تِرے فراق میں روئے ہیں زار زار ابھی

ادائے خار سے گلشن کی بڑھ گئی زینت

اگرچہ پھولوں کے دامن ہیں تار تار ابھی

Friday, 14 January 2022

جب اپنا سایہ ہی دشمن ہے کیا کیا جائے

 جب اپنا سایہ ہی دشمن ہے کیا کیا جائے

یہی تو ذہن کی الجھن ہے کیا کیا جائے

ہیں جس کے ہاتھ میں ذرے بھی ماہ و انجم بھی

اسی کے ہاتھ میں دامن ہے کیا کیا جائے

اداس بام پہ موسم نے کھول دیں زلفیں

کسی بیوگ میں جوگن ہے کیا کیا جائے

Sunday, 25 July 2021

کئی دنوں سے کسی بہانے دل بہلتا ہی نہیں

 کئی دنوں سے

کسی بہانے

دل بہلتا ہی نہیں

یوں لگتا ہے

جیسے

ذہن کے گوشے میں

Saturday, 15 May 2021

رفتہ رفتہ اشک آنکھوں سے رواں ہونے لگے

 رفتہ رفتہ اشک آنکھوں سے رواں ہونے لگے

دل لگا کر دور مجھ سے جان جاں ہونے لگے

آنکھ ان سے جب ملی تو مل گیا دل کو قرار

چاند تاروں میں کیا کرتا تھا میں ان کا شمار

دل کی دھڑکن میری الجھن بے زباں ہونے لگے

رفتہ رفتہ اشک آنکھوں سے رواں ہونے لگے

Friday, 14 May 2021

اے دوست تری بات سحر خیز بہت ہے

 اے دوست تِری بات سحر خیز بہت ہے

پر طرز تکلم تِرا خوں ریز بہت ہے

گم صم سا کھڑا ہے کوئی دروازۂ دل پر

اس شام کا منظر تو دل آویز بہت ہے

محفل میں تِرے ہونے سے ہے رنگ پہ موسم

احوال خاص و عام طرب خیز بہت ہے

Thursday, 13 May 2021

بس پل دو پل کی بات ہے

 بس

پل دو پل کی بات ہے

بے سبب پریشاں ہوتے ہو

تمہیں کس بات کا غم ہے

کیوں اداس رہتے ہو

دیکھو

Wednesday, 12 May 2021

شبنم کی طرح صبح کی آنکھوں میں پڑا ہے

 شبنم کی طرح صُبح کی آنکھوں میں پڑا ہے

حالات کا مارا ہے پناہوں میں پڑا ہے

تھا زندگی کے ساز پہ چھیڑا ہوا نغمہ

بے ربط جو ٹُوٹے ہوئے سازوں میں پڑا ہے

سورج کی شعاعوں سے اُلجھتا ہے مسلسل

سایہ ہے ابھی وقت کی باہوں میں پڑا ہے

حصار دید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے

 حصارِ دِید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے

تو کیوں اندیشۂ تشنہ لبی معلوم ہوتی ہے

تمہاری گفتگو سے آس کی خوشبو چھلکتی ہے

جہاں تم ہو وہاں پہ زندگی معلوم ہوتی ہے

ستارے مثل جگنو زائچے میں رقص کرتے ہیں

ذرا سی دیر میں کچھ روشنی معلوم ہوتی ہے