ہمیشہ ہجرتوں کے سلسلے اچھے نہیں لگتے
ہمیں اب روکھے پھیکے ذائقے اچھے نہیں لگتے
ستارے ان کی منزل کا کبھی عنواں نہیں بنتے
جنہیں پُر خار تنہا راستے اچھے نہیں لگتے
مجھے اڑ جانے دے تاکہ فضا کا جائزہ لے لوں
سنہری پٹیوں سے پر بندھے اچھے نہیں لگتے
ہمیشہ ہجرتوں کے سلسلے اچھے نہیں لگتے
ہمیں اب روکھے پھیکے ذائقے اچھے نہیں لگتے
ستارے ان کی منزل کا کبھی عنواں نہیں بنتے
جنہیں پُر خار تنہا راستے اچھے نہیں لگتے
مجھے اڑ جانے دے تاکہ فضا کا جائزہ لے لوں
سنہری پٹیوں سے پر بندھے اچھے نہیں لگتے
جگر کو خون کئے دل کو بے قرار ابھی
بھٹک رہے ہیں تِرے عشق میں ہزار ابھی
اسی لیے تو یہ دنیا دُھلی دُھلی سی لگے
تِرے فراق میں روئے ہیں زار زار ابھی
ادائے خار سے گلشن کی بڑھ گئی زینت
اگرچہ پھولوں کے دامن ہیں تار تار ابھی
جب اپنا سایہ ہی دشمن ہے کیا کیا جائے
یہی تو ذہن کی الجھن ہے کیا کیا جائے
ہیں جس کے ہاتھ میں ذرے بھی ماہ و انجم بھی
اسی کے ہاتھ میں دامن ہے کیا کیا جائے
اداس بام پہ موسم نے کھول دیں زلفیں
کسی بیوگ میں جوگن ہے کیا کیا جائے
کئی دنوں سے
کسی بہانے
دل بہلتا ہی نہیں
یوں لگتا ہے
جیسے
ذہن کے گوشے میں
رفتہ رفتہ اشک آنکھوں سے رواں ہونے لگے
دل لگا کر دور مجھ سے جان جاں ہونے لگے
آنکھ ان سے جب ملی تو مل گیا دل کو قرار
چاند تاروں میں کیا کرتا تھا میں ان کا شمار
دل کی دھڑکن میری الجھن بے زباں ہونے لگے
رفتہ رفتہ اشک آنکھوں سے رواں ہونے لگے
اے دوست تِری بات سحر خیز بہت ہے
پر طرز تکلم تِرا خوں ریز بہت ہے
گم صم سا کھڑا ہے کوئی دروازۂ دل پر
اس شام کا منظر تو دل آویز بہت ہے
محفل میں تِرے ہونے سے ہے رنگ پہ موسم
احوال خاص و عام طرب خیز بہت ہے
بس
پل دو پل کی بات ہے
بے سبب پریشاں ہوتے ہو
تمہیں کس بات کا غم ہے
کیوں اداس رہتے ہو
دیکھو
شبنم کی طرح صُبح کی آنکھوں میں پڑا ہے
حالات کا مارا ہے پناہوں میں پڑا ہے
تھا زندگی کے ساز پہ چھیڑا ہوا نغمہ
بے ربط جو ٹُوٹے ہوئے سازوں میں پڑا ہے
سورج کی شعاعوں سے اُلجھتا ہے مسلسل
سایہ ہے ابھی وقت کی باہوں میں پڑا ہے
حصارِ دِید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے
تو کیوں اندیشۂ تشنہ لبی معلوم ہوتی ہے
تمہاری گفتگو سے آس کی خوشبو چھلکتی ہے
جہاں تم ہو وہاں پہ زندگی معلوم ہوتی ہے
ستارے مثل جگنو زائچے میں رقص کرتے ہیں
ذرا سی دیر میں کچھ روشنی معلوم ہوتی ہے