Thursday, 13 May 2021

بس پل دو پل کی بات ہے

 بس

پل دو پل کی بات ہے

بے سبب پریشاں ہوتے ہو

تمہیں کس بات کا غم ہے

کیوں اداس رہتے ہو

دیکھو

ان نظاروں کو

مست آبشاروں کو

ندیوں اور پہاڑوں کو

سورج

چاند

ستاروں کو

گلیوں کو بازاروں کو

شاید تم بہل جاؤ

سوچو جب تم آئے تھے

اس طرح رو رہے تھے

جیسے بچے کے ہاتھ سے کھلونا چھن گیا ہو

پھر تم نے جو کچھ لیا یہیں سے لیا

جو کچھ بھی دیا یہیں پہ دیا

پھر کیوں اداس رہتے ہو

بس پل دو پل کی بات ہے

تم بے سبب پریشاں ہوتے ہو


افروز عالم

No comments:

Post a Comment