Showing posts with label وجد چغتائی. Show all posts
Showing posts with label وجد چغتائی. Show all posts

Wednesday, 3 November 2021

چاہتوں کی جو دل کو عادت ہے

 چاہتوں کی جو دل کو عادت ہے

یہ بھی انساں کی اک ضرورت ہے

ہم فرشتے کہاں سے بن جائیں

عشق انسان کی جبلت ہے

کون آیا ہے، کون آئے گا

بے سبب جاگنے کی عادت ہے

Thursday, 28 October 2021

نامرادی ہی لکھی تھی سو وہ پوری ہو گئی

 نامرادی ہی لکھی تھی سو وہ پوری ہو گئی

زندگی جل کر بجھی اور راکھ جیسی ہو گئی

لوگ کیا سمجھیں کہ غم سے شکل کیسی ہو گئی

آئینہ ٹوٹا تو قیمت اور دونی ہو گئی

رفتہ رفتہ دوریوں سے آنچ دھیمی ہو گئی

لیکن اک تصویر تھی دل میں جو گہری ہو گئی

Tuesday, 26 October 2021

آپ ہی اپنا میں دشمن ہو گیا

 آپ ہی اپنا میں دُشمن ہو گیا

تپ گیا سونا تو کُندن ہو گیا

اور نِکھرا صبحِ کاذب کا سُہاگ

ختم جب تاروں کا ایندھن ہو گیا

کس سے پوچھوں کھو گئی سیتا کہاں

بَن کا ہر سایہ ہی راون ہو گیا

Monday, 26 July 2021

لگائیں آگ ہی دل میں کہ کچھ اجالا ہو

 لگائیں آگ ہی دل میں کہ کچھ اجالا ہو

کسی بہانے تو اس گھر کا بول بالا ہو

نمودِ صبح کو کیسے کرے جہاں تسلیم

کوئی کرن ہو، کہیں نام کو اجالا ہو

نہ تم ملے نہ یہ دنیائے غم ہی راس آئی

تم ہی بتاؤ کہ اس غم کا کیا ازالہ ہو؟

Saturday, 17 July 2021

رات قاتل کی گلی ہو جیسے

 رات قاتل کی گلی ہو جیسے

چاند عیسیٰ سا نبی ہو جیسے

رات اک شب کی بیاہی ہو دلہن

مانگ تاروں سے بھری ہو جیسے

انہی ذروں سے ہیں لمحے مہ و سال

عمر اک ریت⏳ گھڑی ہو جیسے