چاہتوں کی جو دل کو عادت ہے
یہ بھی انساں کی اک ضرورت ہے
ہم فرشتے کہاں سے بن جائیں
عشق انسان کی جبلت ہے
کون آیا ہے، کون آئے گا
بے سبب جاگنے کی عادت ہے
چاہتوں کی جو دل کو عادت ہے
یہ بھی انساں کی اک ضرورت ہے
ہم فرشتے کہاں سے بن جائیں
عشق انسان کی جبلت ہے
کون آیا ہے، کون آئے گا
بے سبب جاگنے کی عادت ہے
نامرادی ہی لکھی تھی سو وہ پوری ہو گئی
زندگی جل کر بجھی اور راکھ جیسی ہو گئی
لوگ کیا سمجھیں کہ غم سے شکل کیسی ہو گئی
آئینہ ٹوٹا تو قیمت اور دونی ہو گئی
رفتہ رفتہ دوریوں سے آنچ دھیمی ہو گئی
لیکن اک تصویر تھی دل میں جو گہری ہو گئی
آپ ہی اپنا میں دُشمن ہو گیا
تپ گیا سونا تو کُندن ہو گیا
اور نِکھرا صبحِ کاذب کا سُہاگ
ختم جب تاروں کا ایندھن ہو گیا
کس سے پوچھوں کھو گئی سیتا کہاں
بَن کا ہر سایہ ہی راون ہو گیا
لگائیں آگ ہی دل میں کہ کچھ اجالا ہو
کسی بہانے تو اس گھر کا بول بالا ہو
نمودِ صبح کو کیسے کرے جہاں تسلیم
کوئی کرن ہو، کہیں نام کو اجالا ہو
نہ تم ملے نہ یہ دنیائے غم ہی راس آئی
تم ہی بتاؤ کہ اس غم کا کیا ازالہ ہو؟
رات قاتل کی گلی ہو جیسے
چاند عیسیٰ سا نبی ہو جیسے
رات اک شب کی بیاہی ہو دلہن
مانگ تاروں سے بھری ہو جیسے
انہی ذروں سے ہیں لمحے مہ و سال
عمر اک ریت⏳ گھڑی ہو جیسے