Showing posts with label عبدالرؤف زین. Show all posts
Showing posts with label عبدالرؤف زین. Show all posts

Wednesday, 22 November 2023

تازگی چھا گئی جب لکھی نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تازگی چھا گئی جب لکھی نعت ہے

زندگی مل گئی جب پڑھی نعت ہے

نُور ہی نُور ہے اب فضا در فضا 

پھر میں کیوں نہ کہوں روشنی نعت ہے 

لوحِ آفاق پر حرفِ آخر وہی

صبحِ تازہ کے جیسی سجی نعت ہے

Tuesday, 14 November 2023

میری دلجوئی کی زحمت نہ اٹھائے کوئی

 میری دل جوئی کی زحمت نہ اُٹھائے کوئی

رو کے بیٹھا ہوں مجھے پھر سے رُلائے کوئی

میرا سینہ تو یہ چھلنی ہے بہت پہلے سے

زخم اُلفت کا مجھے اب نہ لگائے کوئی

عمر گُزری ہے اسی زخمِ جگر میں میری

التجا ہے مجھے مرہم نہ لگائے کوئی

Thursday, 9 November 2023

تسکینِ زندگی کا سہارا حضور ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت (طرحی نعت)


تسکینِ زندگی کا سہارا حضورﷺ ہیں

اس بزم کائنات کے نوشہ حضور ہیں

محشر میں نعت آپؐ کی پڑھتا ہوا چلوں

میری زباں پہ جاری ہو مولا حضور ہیں

قرآن دے رہا ہے ازل سے یہی خبر

بے شک! نویدِ حضرتِ عیسیٰؑ حضور ہیں

Thursday, 2 November 2023

یہ دنیا سے الگ میرا جہاں ہے

 یہ دُنیا سے الگ میرا جہاں ہے

مسافر کو ستاروں کا گُماں ہے

مِری آنکھوں سے اس کو دیکھنا تم

محبت کی حقیقت اک دُھواں ہے

جگر کے زخم کُھلتے جا رہے ہیں 

کہیں کوئی رفوگر کی دُکاں ہے

Tuesday, 31 October 2023

وہ تھا سائے کی پہنائیوں کے قریب

 وہ تھا سائے کی پہنائیوں کے قرِیب

رت جگے آئے تنہائیوں کے قریب

اپنے ہی عکس کو مرتے دیکھا تھا جب

سب تھے اپنے ہی پرچھائیوں کے قریب

آج اس کی صدا روکتی نہ اگر

٭دشنہ تھا دل کی گہرائیوں کے قریب

Monday, 30 October 2023

میں راتیں ہجر کی کیسے گزاروں

 میں راتیں ہجر کی کیسے گُزاروں

خراشیں کیسے خود دل کی اُتاروں

نہیں کرنی اگر کچھ بات مجھ سے

بھلا کس واسطے زُلفیں سنواروں

مِرے دل میں ٹھکانہ ہے غموں کا

میں جیون کیسے اپنا اب گُزاروں

Sunday, 29 October 2023

محبت کے قرینے سے اگر گفتار ہو جائے

 محبت کے قرینے سے اگر گُفتار ہو جائے

خُوشی سے آج میرا دل گُل و گُلزار ہو جائے

کروں باتیں میں اب تیرے در و دیوار سے ایسے

کہ جیسے درد میں کوئی مِرا غمخوار ہو جائے

مُرادوں کے کھلیں غُنچے اگر دامانِ اُلفت میں

تو ہر آتش کدہ اس کے لیے گُلزار ہو جائے