عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تازگی چھا گئی جب لکھی نعت ہے
زندگی مل گئی جب پڑھی نعت ہے
نُور ہی نُور ہے اب فضا در فضا
پھر میں کیوں نہ کہوں روشنی نعت ہے
لوحِ آفاق پر حرفِ آخر وہی
صبحِ تازہ کے جیسی سجی نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تازگی چھا گئی جب لکھی نعت ہے
زندگی مل گئی جب پڑھی نعت ہے
نُور ہی نُور ہے اب فضا در فضا
پھر میں کیوں نہ کہوں روشنی نعت ہے
لوحِ آفاق پر حرفِ آخر وہی
صبحِ تازہ کے جیسی سجی نعت ہے
میری دل جوئی کی زحمت نہ اُٹھائے کوئی
رو کے بیٹھا ہوں مجھے پھر سے رُلائے کوئی
میرا سینہ تو یہ چھلنی ہے بہت پہلے سے
زخم اُلفت کا مجھے اب نہ لگائے کوئی
عمر گُزری ہے اسی زخمِ جگر میں میری
التجا ہے مجھے مرہم نہ لگائے کوئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت (طرحی نعت)
تسکینِ زندگی کا سہارا حضورﷺ ہیں
اس بزم کائنات کے نوشہ حضور ہیں
محشر میں نعت آپؐ کی پڑھتا ہوا چلوں
میری زباں پہ جاری ہو مولا حضور ہیں
قرآن دے رہا ہے ازل سے یہی خبر
بے شک! نویدِ حضرتِ عیسیٰؑ حضور ہیں
یہ دُنیا سے الگ میرا جہاں ہے
مسافر کو ستاروں کا گُماں ہے
مِری آنکھوں سے اس کو دیکھنا تم
محبت کی حقیقت اک دُھواں ہے
جگر کے زخم کُھلتے جا رہے ہیں
کہیں کوئی رفوگر کی دُکاں ہے
وہ تھا سائے کی پہنائیوں کے قرِیب
رت جگے آئے تنہائیوں کے قریب
اپنے ہی عکس کو مرتے دیکھا تھا جب
سب تھے اپنے ہی پرچھائیوں کے قریب
آج اس کی صدا روکتی نہ اگر
٭دشنہ تھا دل کی گہرائیوں کے قریب
میں راتیں ہجر کی کیسے گُزاروں
خراشیں کیسے خود دل کی اُتاروں
نہیں کرنی اگر کچھ بات مجھ سے
بھلا کس واسطے زُلفیں سنواروں
مِرے دل میں ٹھکانہ ہے غموں کا
میں جیون کیسے اپنا اب گُزاروں
محبت کے قرینے سے اگر گُفتار ہو جائے
خُوشی سے آج میرا دل گُل و گُلزار ہو جائے
کروں باتیں میں اب تیرے در و دیوار سے ایسے
کہ جیسے درد میں کوئی مِرا غمخوار ہو جائے
مُرادوں کے کھلیں غُنچے اگر دامانِ اُلفت میں
تو ہر آتش کدہ اس کے لیے گُلزار ہو جائے