عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدحتِ قریۂ سرکارﷺ میں آ جاتے ہیں
مہر و انجم مرے اظہار میں آ جاتے ہیں
یہ بھی سرکارؐ کی رحمت ہے کہ ہم سے عاصی
منہ اٹھائے ہوئے دربار میں آ جاتے ہیں
اسوۂ احمدِ مُرسلﷺ پہ جو چلتے ہیں یہاں
نام وہ صاحبِ کردار میں آ جاتے ہیں
پھول بن جاتے ہیں سب رحمتِ عالمؐ کے لیے
اشک جو طالبِ دیدار میں آ جاتے ہیں
دھوپ دنیا کی ذرا سا بھی ستاتی ہے اگر
ہم اسی سایۂ دیوار میں آ جاتے ہیں
اُن کی رحمت کی گھٹا ایسی برستی ہے وہاں
دشت بھی وسعتِ گلزار میں آ جاتے ہیں
ہم بھی نازاں ہیں کہ سرکارؐ ہوئے تھے مہماں
ہم بھی تو حلقۂ انصار میں آ جاتے ہیں
عنبرین حسیب عنبر
No comments:
Post a Comment