Saturday, 12 September 2026

مدحت قریۂ سرکار میں آ جاتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مدحتِ قریۂ سرکارﷺ میں آ جاتے ہیں

مہر و انجم مرے اظہار میں آ جاتے ہیں

یہ بھی سرکارؐ کی رحمت ہے کہ ہم سے عاصی

منہ اٹھائے ہوئے دربار میں آ جاتے ہیں

اسوۂ احمدِ مُرسلﷺ پہ جو چلتے ہیں یہاں

نام وہ صاحبِ کردار میں آ جاتے ہیں

پھول بن جاتے ہیں سب رحمتِ عالمؐ کے لیے

اشک جو طالبِ دیدار میں آ جاتے ہیں

دھوپ دنیا کی ذرا سا بھی ستاتی ہے اگر

ہم اسی سایۂ دیوار میں آ جاتے ہیں

اُن کی رحمت کی گھٹا ایسی برستی ہے وہاں

دشت بھی وسعتِ گلزار میں آ جاتے ہیں

ہم بھی نازاں ہیں کہ سرکارؐ ہوئے تھے مہماں

ہم بھی تو حلقۂ انصار میں آ جاتے ہیں


عنبرین حسیب عنبر

No comments:

Post a Comment