Monday, 7 September 2026

وہ دل نہیں رہا وہ محبت نہیں رہی

 وہ دل نہیں رہا وہ محبت نہیں رہی

اب زندگی سے کوئی شکایت نہیں رہی

اس بار کوئی زخم بھی گہرا نہیں لگا

مجھ پر ستمگروں کی عنایت نہیں رہی

جائیں کہاں سمیٹ کے اپنی اداسیاں

کہتے تھے گھر جسے وہ عمارت نہیں رہی

اک دم سے ان کی یاد گئی تو نہیں مگر

اب فکر میں وہ پہلے سی کثرت نہیں رہی

آنسو ہی پونچھتا یا مِرے زخم چومتا

اتنی بھی اب کے یار کو فرصت نہیں رہی

محفل ہے حسرتوں کی خیالوں کا ہے ہجوم

تنہائی میں بھی اب کوئی خلوت نہیں رہی

شاید مجھے بھی اب کے وہ کچھ مہرباں لگا

شاید اسے بھی مجھ سے شکایت نہیں رہی

کہتے ہیں اب کے دیں گے ہر اک بات کا جواب

مجھ میں ہی جب سوال کی طاقت نہیں رہی

مرنے نے میرے سب کو فرشتہ بنا دیا

دشمن کے بھی دلوں میں کدورت نہیں رہی

پہلے تو لطف شدت غم کی خوشی رہی

پھر یوں ہوا کے غم میں بھی شدت نہیں رہی

کہتے کے جا خدا کی اماں میں دیا تجھے

وقت جدائی اتنی بھی مہلت نہیں رہی


مریم فاطمہ

No comments:

Post a Comment