فریبِ منظرِ معمول چاہتی ہے کیا
یہ کھڑکیوں پہ جمی دھول، چاہتی ہے کیا
اکھڑتی سانسوں میں اٹکا ہوا ہے ذکر کوئی
یہ آرزوئے زیاں طول چاہتی ہے کیا
کھڑی ہے ہاتھ میں لے کے چراغ ساحل پر
ہوائے شب کوئی مستول چاہتی ہے کیا
فریبِ منظرِ معمول چاہتی ہے کیا
یہ کھڑکیوں پہ جمی دھول، چاہتی ہے کیا
اکھڑتی سانسوں میں اٹکا ہوا ہے ذکر کوئی
یہ آرزوئے زیاں طول چاہتی ہے کیا
کھڑی ہے ہاتھ میں لے کے چراغ ساحل پر
ہوائے شب کوئی مستول چاہتی ہے کیا
جہاں کہیں بھی تِرا نقشِ پا ملے گا مجھے
وہاں سے چار قدم پر خدا ملے گا مجھے
پرِیدہ چشم ہے شانوں پہ بوجھ صحرا کا
ہجومِ شہر! ذرا راستہ ملے گا مجھے؟
بنا ہوا ہے جو میرے وجود کا شاہد
یہی چراغ سرِ شب بُجھا ملے گا مجھے
مت کر مجھے خوار، مجھے چاک سے اُتار
سُن لے مری پکار، مجھے چاک سے اتار
آب و ہوا کا، اور مِرا دکھ ہے مشترک
پت جھڑ بھی ہے بہار، مجھے چاک سے اتار
دوں گا تجھے دلیل خود اپنے وجود کی
کچھ وقت دے ادھار، مجھے چاک سے اتار
اب نظر آ، کہ تھک رہا ہوں میں
کب سے آئینہ تک رہا ہوں میں
آئینہ سا، وہ رو بہ رو ہے مِرے
اور پلکیں جھپک رہا ہوں میں
آ گئی ہے زباں میں لکنتِ عشق
بات کرتے اٹک رہا ہوں میں
مان لیتا ہوں؛ جو کرتا ہے، خدا کرتا ہے
اب مجھے کوئی یہ سمجھاؤ کہ کیا کرتا ہے
درد کا دل کو جو ایک بار مزا لگ جائے
کون کافر ہے جو پھر اس کی دوا کرتا ہے
عشق کو اور بنانے کے لیے دیوانہ
حُسن عُریانی کے پردے میں رہا کرتا ہے
جی کے کیا کرتا کیا نہ کرتا میں
مر ہی جاتا اگر نہ مرتا میں
سوچتا ہوں اگر نہ کرتا عشق
صبح کو کیسے شام کرتا میں
کم سے کم کرتا کارِ کاسہ و جام
ہاتھ پر ہاتھ تو نہ دھرتا میں
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ نوحۂ کربلا
بازار ہے پتھر ہیں زینب کا کُھلا سر ہے
ہر زخم پہ شُکرانہ زینبؑ کے لبوں پر ہے
اک گریہِ خونیں کی جاتی ہی نہیں لالی
سجادؑ کی آنکھوں کو دیکھا ہی نہیں خالی
یا خون ہے آنکھوں میں یا شام کا منظر ہے
وہ قلب تھے کیسے جو جاں لے گئے سرور کی
افلاک کی تنہائی بُھلانے چلے آئے
دنیا میں جو ہم خاک اُڑانے چلے آئے
ہم وسوسہ انجام ہوئے راندۂ جنت
یا مرنے کو جینے کے بہانے چلے آئے
اے شورِ من و تُو تِری محفل سے بہت دُور
ہم دشت کو خاموشی سنانے چلے آئے