Showing posts with label احمد نوید. Show all posts
Showing posts with label احمد نوید. Show all posts

Monday, 16 October 2023

فریب منظر معمول چاہتی ہے کیا

 فریبِ منظرِ معمول چاہتی ہے کیا

یہ کھڑکیوں پہ جمی دھول، چاہتی ہے کیا

اکھڑتی سانسوں میں اٹکا ہوا ہے ذکر کوئی

یہ آرزوئے زیاں طول چاہتی ہے کیا

کھڑی ہے ہاتھ میں لے کے چراغ ساحل پر

ہوائے شب کوئی مستول چاہتی ہے کیا

Thursday, 10 February 2022

جہاں کہیں بھی ترا نقش پا ملے گا مجھے

 جہاں کہیں بھی تِرا نقشِ پا ملے گا مجھے

وہاں سے چار قدم پر خدا ملے گا مجھے

پرِیدہ چشم ہے شانوں پہ بوجھ صحرا کا

ہجومِ شہر! ذرا راستہ ملے گا مجھے؟

بنا ہوا ہے جو میرے وجود کا شاہد

یہی چراغ سرِ شب بُجھا ملے گا مجھے

Thursday, 3 February 2022

مت کر مجھے خوار مجھے چاک سے اتار

 مت کر مجھے خوار، مجھے چاک سے اُتار

سُن لے مری پکار، مجھے چاک سے اتار

آب و ہوا کا، اور مِرا دکھ ہے مشترک

پت جھڑ بھی ہے بہار، مجھے چاک سے اتار

دوں گا تجھے دلیل خود اپنے وجود کی

کچھ وقت دے ادھار، مجھے چاک سے اتار

Sunday, 12 December 2021

اب نظر آ کہ تھک رہا ہوں میں

 اب نظر آ، کہ تھک رہا ہوں میں

کب سے آئینہ تک رہا ہوں میں

آئینہ سا، وہ رو بہ رو ہے مِرے

اور پلکیں جھپک رہا ہوں میں

آ گئی ہے زباں میں لکنتِ عشق

بات کرتے اٹک رہا ہوں میں

Saturday, 21 August 2021

مان لیتا ہوں جو کرتا ہے خدا کرتا ہے

 مان لیتا ہوں؛ جو کرتا ہے، خدا کرتا ہے

اب مجھے کوئی یہ سمجھاؤ کہ کیا کرتا ہے

درد کا دل کو جو ایک بار مزا لگ جائے

کون کافر ہے جو پھر اس کی دوا کرتا ہے

عشق کو اور بنانے کے لیے دیوانہ

حُسن عُریانی کے پردے میں رہا کرتا ہے

Friday, 13 August 2021

جی کے کیا کرتا کیا نہ کرتا میں

 جی کے کیا کرتا کیا نہ کرتا میں

مر ہی جاتا اگر نہ مرتا میں

سوچتا ہوں اگر نہ کرتا عشق

صبح کو کیسے شام کرتا میں

کم سے کم کرتا کارِ کاسہ و جام

ہاتھ پر ہاتھ تو نہ دھرتا میں

Wednesday, 11 August 2021

بازار ہے پتھر ہیں زینب کا کھلا سر ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ نوحۂ کربلا


بازار ہے پتھر ہیں زینب کا کُھلا سر ہے

ہر زخم پہ شُکرانہ زینبؑ کے لبوں پر ہے

اک گریہِ خونیں کی جاتی ہی نہیں لالی

سجادؑ کی آنکھوں کو دیکھا ہی نہیں خالی

یا خون ہے آنکھوں میں یا شام کا منظر ہے

وہ قلب تھے کیسے جو جاں لے گئے سرور کی

Tuesday, 6 July 2021

افلاک کی تنہائی بھلانے چلے آئے

 افلاک کی تنہائی بُھلانے چلے آئے

دنیا میں جو ہم خاک اُڑانے چلے آئے

ہم وسوسہ انجام ہوئے راندۂ جنت

یا مرنے کو جینے کے بہانے چلے آئے

اے شورِ من و تُو تِری محفل سے بہت دُور

ہم دشت کو خاموشی سنانے چلے آئے

Tuesday, 13 January 2015

کبھی تو سوچنا یہ تم نے کیا کیا لوگو

کبھی تو سوچنا یہ تم نے کیا کِیا لوگو
یہ کس کو تم نے سرِ دار کھو دیا لوگو
ہوائے بُغض و خباثت چلی تو اپنے ساتھ
اڑا کے لے گئی انصاف کی قبا لوگو
دیا تھا صبحِ مسرت نے اِک چراغ ہمیں
اسی کو تم نے سرِ شام کھو دیا لوگو