افلاک کی تنہائی بُھلانے چلے آئے
دنیا میں جو ہم خاک اُڑانے چلے آئے
ہم وسوسہ انجام ہوئے راندۂ جنت
یا مرنے کو جینے کے بہانے چلے آئے
اے شورِ من و تُو تِری محفل سے بہت دُور
ہم دشت کو خاموشی سنانے چلے آئے
ہے راز پسِ راز،۔ ہے پردہ پسِ پردہ
اس راز سے ہم پردہ اُٹھانے چلے آئے
بہتر تھا کہ سوئے ہوئے انساں کو جگاتے
تم خواب پسِ خواب دِکھانے چلے آئے
احمد نوید
No comments:
Post a Comment