Tuesday, 6 July 2021

افلاک کی تنہائی بھلانے چلے آئے

 افلاک کی تنہائی بُھلانے چلے آئے

دنیا میں جو ہم خاک اُڑانے چلے آئے

ہم وسوسہ انجام ہوئے راندۂ جنت

یا مرنے کو جینے کے بہانے چلے آئے

اے شورِ من و تُو تِری محفل سے بہت دُور

ہم دشت کو خاموشی سنانے چلے آئے

ہے راز پسِ راز،۔ ہے پردہ پسِ پردہ

اس راز سے ہم پردہ اُٹھانے چلے آئے

بہتر تھا کہ سوئے ہوئے انساں کو جگاتے

تم خواب پسِ خواب دِکھانے چلے آئے


احمد نوید

No comments:

Post a Comment