Tuesday, 6 July 2021

بنیں گے کن صحیفوں کے فسانے بادشاہا

 بنیں گے کن صحیفوں کے فسانے بادشاہا

یہ میرے رائیگاں ہوتے زمانے بادشاہا

دھواں ہوتی ہوئی عمروں پہ مٹی ڈالتا جا

چلیں تا حشر تیرے کارخانے بادشاہا

شکستہ آئینوں کی سسکیاں ہیں اور میں ہوں

جہاں تیرے وہیں میرے ٹھکانے بادشاہا

پِرو جاتا ہے کوئی دستِ بے آواز ہر شب

مِری تسبیح میں گندم کے دانے بادشاہا

بدل کر بھیس تیرا اور میرا بر سرِ خاک

اُلجھتے ہیں خزانوں سے خزانے بادشاہا

نہ دیکھا کر ادھر اب تو حیا آتی ہے تجھ سے

ادھر کیا ہے؟ وہی گھاؤ پرانے بادشاہا


شناور اسحاق

No comments:

Post a Comment