Showing posts with label فرحت پروین. Show all posts
Showing posts with label فرحت پروین. Show all posts

Monday, 12 September 2022

بھید جینا کس کو کہتے ہیں

 بھید


نیچے گِرنے سے کچھ پہلے 

خاک میں ملنے سے کچھ پہلے 

اِک لحظہ رُخسار پہ رُک کر

اک آنسو نے مجھ سے پوچھا

جینا کس کو کہتے ہیں؟ 


فرحت پروین

Wednesday, 7 September 2022

پیام میرا ملا تو ہو گا

 پیام میرا ملا تو ہو گا


ہوا کے کومل سُبک بدن پر

جو چاند کِرنوں سے لکھ کے بھیجا

پیام میرا، ملا تو ہو گا؟

میں آنے والے ہر ایک جھونکے سے پوچھتی ہوں

جواب لائے؟

Friday, 26 August 2022

چوٹ لگتی ہے اگر رونے تو دو

 چوٹ لگتی ہے اگر


کتنے ہی صاحبِ دل، اہلِ نظر، اہلِ قلم

اک زمانے سے یوں ہی لکھتے چلے آئے ہیں

 وہی اک قصۂ دلدوز کہ جو صدیوں سے

ہے رواں مفلس و زردار کے بیچ

ایک اک حرف لکھا خونِ جگر سے لیکن

Wednesday, 24 August 2022

سچ بتا اے خدا کون چھپا ہے اس میں؟

 سچ بتا

اے خدا

کیسے میں مانوں کہ مٹی سے بنی ہے ماں بھی

خاک تو فانی ہے، مِٹ جاتی ہے

اور لافانی کو فانی میں کیسے مانوں؟

سچ بتا، کون چُھپا ہے اس میں؟

Thursday, 20 January 2022

مرحلے آئے رہ عشق میں دشوار کئی

 مرحلے آئے رہِ عشق میں دشوار کئی

میں نے اک چاند کے دیکھے ہیں طلبگار کئی

وحشتِ رم تھی طبیعت میں غزالوں جیسی

یوں تو آتے ہی رہے راہ میں چھتنار کئی

ہوں وہ تصویر جو اب تک ہے نہاں رنگوں میں

یوں تو سنتے ہیں کہ ہیں شہر میں فنکار کئی