بھید
نیچے گِرنے سے کچھ پہلے
خاک میں ملنے سے کچھ پہلے
اِک لحظہ رُخسار پہ رُک کر
اک آنسو نے مجھ سے پوچھا
جینا کس کو کہتے ہیں؟
فرحت پروین
بھید
نیچے گِرنے سے کچھ پہلے
خاک میں ملنے سے کچھ پہلے
اِک لحظہ رُخسار پہ رُک کر
اک آنسو نے مجھ سے پوچھا
جینا کس کو کہتے ہیں؟
فرحت پروین
پیام میرا ملا تو ہو گا
ہوا کے کومل سُبک بدن پر
جو چاند کِرنوں سے لکھ کے بھیجا
پیام میرا، ملا تو ہو گا؟
میں آنے والے ہر ایک جھونکے سے پوچھتی ہوں
جواب لائے؟
چوٹ لگتی ہے اگر
کتنے ہی صاحبِ دل، اہلِ نظر، اہلِ قلم
اک زمانے سے یوں ہی لکھتے چلے آئے ہیں
وہی اک قصۂ دلدوز کہ جو صدیوں سے
ہے رواں مفلس و زردار کے بیچ
ایک اک حرف لکھا خونِ جگر سے لیکن
سچ بتا
اے خدا
کیسے میں مانوں کہ مٹی سے بنی ہے ماں بھی
خاک تو فانی ہے، مِٹ جاتی ہے
اور لافانی کو فانی میں کیسے مانوں؟
سچ بتا، کون چُھپا ہے اس میں؟
مرحلے آئے رہِ عشق میں دشوار کئی
میں نے اک چاند کے دیکھے ہیں طلبگار کئی
وحشتِ رم تھی طبیعت میں غزالوں جیسی
یوں تو آتے ہی رہے راہ میں چھتنار کئی
ہوں وہ تصویر جو اب تک ہے نہاں رنگوں میں
یوں تو سنتے ہیں کہ ہیں شہر میں فنکار کئی