مِری صورت میں مِرا یار ہے اللہ اللہ
مِرے دل میں مِرا دلدار ہے اللہ اللہ
کیا ہی تصویر بنی ہے یہ اہا ہا ہا ہا
اس میں آپی وہ نمودار ہے اللہ اللہ
شکل آدم کے سوا اور نہ بھایا نقشہ
سارے عالم میں یہ اظہار ہے اللہ اللہ
مِری صورت میں مِرا یار ہے اللہ اللہ
مِرے دل میں مِرا دلدار ہے اللہ اللہ
کیا ہی تصویر بنی ہے یہ اہا ہا ہا ہا
اس میں آپی وہ نمودار ہے اللہ اللہ
شکل آدم کے سوا اور نہ بھایا نقشہ
سارے عالم میں یہ اظہار ہے اللہ اللہ
میرے مرشد ہو پیشوا ہو تم
میری صورت میں مدعا ہو تم
ڈھونڈے پاتا نہیں تمہیں ہر شخص
پر سبھوں میں خلا ملا ہو تم
معنئ مصطفیٰﷺ تمہیں تو ہو
کاشفِ سر لا مکاں ہو تم
پھر وہی ہے نالۂ دل پھر وہی جوشِ جنوں
پھر وہی آہ و بکا ہے پھر وہی درد دروں
جوش الفت سے بھرا رہتا ہے دل آٹھوں پہر
ہچکیاں لے لے کے روتا ہے مقدر سر نِگوں
سر پہ ہے دھانی دوپٹہ دل پسند اے حور وَش
لعل لب پر ہے تبسم پھر نہ کیوں ہو دل کا خوں
جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں
تمہیں تم کو ہم اے صنم دیکھتے ہیں
یہ سب آپ ہی کی ہے گفت و شنید
جو گوش و زبان و قلم دیکھتے ہیں
اور آپی کا ہے سب یہ جلوہ میاں
جو پیش نظر دم بدم دیکھتے ہیں
دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کا
زیر فانوس بدن شمع ہے جوبن ان کا
دید ان کی ہے وصال ان کا تصور ان کا
جان ان کی ہے جگر ان کا ہے تن من ان کا
ہیں وہ کاشانۂ دل میں کبھی آنکھوں میں کبھی
خانہ تن ہے مرا گھر بھی اور آنگن ان کا