پھر وہی ہے نالۂ دل پھر وہی جوشِ جنوں
پھر وہی آہ و بکا ہے پھر وہی درد دروں
جوش الفت سے بھرا رہتا ہے دل آٹھوں پہر
ہچکیاں لے لے کے روتا ہے مقدر سر نِگوں
سر پہ ہے دھانی دوپٹہ دل پسند اے حور وَش
لعل لب پر ہے تبسم پھر نہ کیوں ہو دل کا خوں
پھر تیرا انداز دل کش دل کو ہے مرغوب تر
پھر وہی مجنوں ہوں تیرا پھر وہی دیوانہ ہوں
ہے تمنا دل میں مردؔاں کہ رہے طرفین لطف
وہ فدا مجھ پر ہو یارب میں فدا اس پر رہوں
مردان صفی
No comments:
Post a Comment