Tuesday, 9 March 2021

یوں پابند سلاسل ہو کر کون پھرے بازاروں میں

 یوں پابندِ سلاسل ہو کر کون پھرے بازاروں میں

خود ہی قید نہ ہو جائیں کیوں اپنی ہی دیواروں میں

رات کے لمحوں کی سنگینی دل کو ڈستی رہتی ہے

جسم سُلگتا رہتا ہے تنہائی کے انگاروں میں

روشنیوں کے شہر اندھیروں کے جادو میں ڈوب گئے

بجھنے لگی ہو نور کی مشعل جیسے چاند ستاروں میں

درد کے تپتے صحرا میں اک آبلہ پا سر گرداں ہے

تم کو کیا تم جشن مناؤ خوشیوں کے گہواروں میں

میں کوئی سقراط نہ تھا جو زہر کا پیالہ پی جاتا

میں خود کیسے ڈوب سکوں گا اپنے لہو کی دھاروں میں

شہر کی راہیں رقص کناں ہیں رنگ فضا میں بکھرا ہے

کتنے چہرے سجے ہوئے ہیں ان چمکیلی کاروں میں


اسرار زیدی

No comments:

Post a Comment