Showing posts with label قمر صدیقی. Show all posts
Showing posts with label قمر صدیقی. Show all posts

Monday, 29 November 2021

تہذیب کی راہوں میں دشت آئے جبل آئے

 تہذیب کی راہوں میں دشت آئے جبل آئے

پھر ٹھنڈی ہوا آئی، صحرا میں کنول آئے

اب خوف نہیں آتا دنیا کے رویے سے

آنکھوں سے شرر برسیں یا ماتھے پہ بل آئے

پھر صبح کے نکلے تھے دنیا کو بدل دیں گے

پھر شام کو خود سورج کے ساتھ بدل آئے

Thursday, 25 November 2021

پھر وہی خانۂ برباد ہمارے لیے ہے

 پھر وہی خانۂ برباد ہمارے لیے ہے

شہر غرناطہ و بغداد ہمارے لیے ہے

جھیلنا ہے ہمیں پھر کرب فراموشی کا

پھر وہی سلسلۂ یاد ہمارے لیے ہے

نیند کے شہر طلسمات مبارک ہوں تمہیں

جاگتے رہنے کی افتاد ہمارے لیے ہے

Wednesday, 24 November 2021

آنسو کی ایک بوند پلک پر جمی رہی

 آنسو کی ایک بوند پلک پر جمی رہی

پھر اس کے بعد ساری فضا شبنمی رہی

ترکِ تعلقات میں اس کی خطا بھی تھی

تھوڑی بہت وفا میں ادھر بھی کمی رہی

بادل غموں کے کب سے برس کر چلے گئے

آنکھوں میں اس سبب سے ابھی تک نمی رہی

Tuesday, 23 November 2021

جتنا تھا جینا جی لیے مر جانا چاہیے

 جتنا تھا جینا جی لیے، مر جانا چاہیے

حد ہو گئی تو حد سے گزر جانا چاہیے

ٹھہرے ہوئے ہیں کب سے یہ مہمان کی طرح

آنکھوں سے آنسوؤں کو بکھر جانا چاہیے

یہ کیا کہ روز قصے میں تم شیر ہی بنو

یارو! کبھی کبھار تو ڈر جانا چاہیے

Wednesday, 20 December 2017

کیا رنج کہ یوسف کا خریدار نہیں ہے

 کیا رنج کہ یوسف کا خریدار نہیں ہے 

یہ شہر کوئی مصر کا بازار نہیں ہے 

کیوں میری گرفتاری پہ ہنگامہ ہے ہر سو 

وہ کون ہے جو تیرا گرفتار نہیں ہے 

کس کس پہ عنایت نہ ہوئی تیری نظر کی 

بس ایک مری سمت گہر بار نہیں ہے