تہذیب کی راہوں میں دشت آئے جبل آئے
پھر ٹھنڈی ہوا آئی، صحرا میں کنول آئے
اب خوف نہیں آتا دنیا کے رویے سے
آنکھوں سے شرر برسیں یا ماتھے پہ بل آئے
پھر صبح کے نکلے تھے دنیا کو بدل دیں گے
پھر شام کو خود سورج کے ساتھ بدل آئے
تہذیب کی راہوں میں دشت آئے جبل آئے
پھر ٹھنڈی ہوا آئی، صحرا میں کنول آئے
اب خوف نہیں آتا دنیا کے رویے سے
آنکھوں سے شرر برسیں یا ماتھے پہ بل آئے
پھر صبح کے نکلے تھے دنیا کو بدل دیں گے
پھر شام کو خود سورج کے ساتھ بدل آئے
پھر وہی خانۂ برباد ہمارے لیے ہے
شہر غرناطہ و بغداد ہمارے لیے ہے
جھیلنا ہے ہمیں پھر کرب فراموشی کا
پھر وہی سلسلۂ یاد ہمارے لیے ہے
نیند کے شہر طلسمات مبارک ہوں تمہیں
جاگتے رہنے کی افتاد ہمارے لیے ہے
آنسو کی ایک بوند پلک پر جمی رہی
پھر اس کے بعد ساری فضا شبنمی رہی
ترکِ تعلقات میں اس کی خطا بھی تھی
تھوڑی بہت وفا میں ادھر بھی کمی رہی
بادل غموں کے کب سے برس کر چلے گئے
آنکھوں میں اس سبب سے ابھی تک نمی رہی
جتنا تھا جینا جی لیے، مر جانا چاہیے
حد ہو گئی تو حد سے گزر جانا چاہیے
ٹھہرے ہوئے ہیں کب سے یہ مہمان کی طرح
آنکھوں سے آنسوؤں کو بکھر جانا چاہیے
یہ کیا کہ روز قصے میں تم شیر ہی بنو
یارو! کبھی کبھار تو ڈر جانا چاہیے
کیا رنج کہ یوسف کا خریدار نہیں ہے
یہ شہر کوئی مصر کا بازار نہیں ہے
کیوں میری گرفتاری پہ ہنگامہ ہے ہر سو
وہ کون ہے جو تیرا گرفتار نہیں ہے
کس کس پہ عنایت نہ ہوئی تیری نظر کی
بس ایک مری سمت گہر بار نہیں ہے