Showing posts with label نسیم خان. Show all posts
Showing posts with label نسیم خان. Show all posts

Saturday, 11 November 2023

کل خواب کی بستی میں مدینے کی ہوا تھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کل خواب کی بستی میں مدینے کی ہوا تھی

ہر سمت نبیؐ آپ کے جلووں کی ضیا تھی

پہنچا ہوں ابھی شہرِ مدینہﷺ تو لگا یوں

اب تک مِری لگتا ہے کہ تقدیر خفا تھی

پیشانئِ دل شکر سے سجدے میں پڑی تھی

کعبے پہ پڑی پہلی، نظر لب پہ دعا تھی

Monday, 7 August 2023

ایک دھندلا سا خواب ہے دنیا

 ایک دھندلا سا خواب ہے دنیا

در حقیقت سراب ہے دنیا

ہم نے مانا خراب ہے دنیا

پر یہ آخر جناب ہے، دنیا

اے مِرے دل! نہ پھول دنیا پر

اے مِرے دل! حباب ہے دنیا

Friday, 10 March 2023

کام اپنا وہی پرانا ہے جو بھی روٹھے اسے منانا ہے

 کام اپنا وہی پرانا ہے

جو بھی روٹھے اسے منانا ہے

آپ درویش سے دعا لیجے

ان کی ٹھوکر میں اک زمانہ ہے

شعر دل سے خطاب کرتے ہیں

شاعری روح کا ترانہ ہے

Sunday, 23 October 2022

عارضی بوسوں کی ٹوکری

 عارضی بوسوں کی ٹوکری


میں

دریا کنارے بیٹھے

ٹوکری لے کر

ایک ایک کر کے سرخ، گلابی اور سفید بوسے

پانی میں بہا رہا ہوں

یہ جون کی چوبیسویں تاریخ ہے

Saturday, 2 April 2022

چھتری میری شاعری کے لیے ایک نیا لفظ ہے

 چھتری میری شاعری کے لیے ایک نیا لفظ ہے

بارش میرے پیروں تک آگئی ہے

میرے گلے تک پہنچنی والی ریت

میں کبھی بھی نگل سکتا ہوں

جان یہ جنگ لڑنے کے لیے مجھے 

کسی کی ضرورت نہیں ہے

Friday, 1 April 2022

ناممکن محبتوں کے پیچھے پڑنے سے بہتر ہے

 دریافت 


ناممکن محبتوں کے پیچھے پڑنے سے بہتر ہے

ہم اپنی حیثیت کا پیچھا کریں

بغیر کسی کو بتائے

جو سائے کی طرح 

ہمارا پیچھا کرتی ہے

Thursday, 31 March 2022

اذیت نے کون سی سیڑھی کا سہارا لیا

 ایک شخص کو 

شہر کے بیچوں بیچ کھڑا کر دیا جاتا ہے

تاکہ کوے 

شہریوں کے سر نہ نوچ سکے

ایک رسی پر 

ننگے پیر چلتے ہوئے

Wednesday, 30 March 2022

کوئی نہیں ہے کوئی ہے جو خدا کے آنسو پونچھے

 کوئی نہیں ہے


کوئی ہے جو خدا کے آنسو پونچھے

کوئی نہیں ہے

ماں چُپ ہے

خدا کی آواز چلی گئی ہے

ماں بیٹے کی موت کی خبر سن کر بہری ہو گئی 

Tuesday, 29 March 2022

میں دوزخ دیکھنا چاہتا ہوں سب تیار رہو

 اپنی نسیں کاٹنے سے بہتر ہے 

گمان کے ان درختوں کو کاٹا جائے 

جن کے سائے میں بیٹھ کر 

جنت کے بارے سوچتے 

اور تھک کر سو جاتے ہیں 

سوچنے والوں کو جب نیند آتی ہے 

Monday, 28 March 2022

سوال ہی کیوں

 سوال ہی کیوں


دیوار پہ چڑھتی بلی 

اور نظم میں مشترک 

بھوک ہو سکتی ہے 

یا تجسس

یا پاگل پن