عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کل خواب کی بستی میں مدینے کی ہوا تھی
ہر سمت نبیؐ آپ کے جلووں کی ضیا تھی
پہنچا ہوں ابھی شہرِ مدینہﷺ تو لگا یوں
اب تک مِری لگتا ہے کہ تقدیر خفا تھی
پیشانئِ دل شکر سے سجدے میں پڑی تھی
کعبے پہ پڑی پہلی، نظر لب پہ دعا تھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کل خواب کی بستی میں مدینے کی ہوا تھی
ہر سمت نبیؐ آپ کے جلووں کی ضیا تھی
پہنچا ہوں ابھی شہرِ مدینہﷺ تو لگا یوں
اب تک مِری لگتا ہے کہ تقدیر خفا تھی
پیشانئِ دل شکر سے سجدے میں پڑی تھی
کعبے پہ پڑی پہلی، نظر لب پہ دعا تھی
ایک دھندلا سا خواب ہے دنیا
در حقیقت سراب ہے دنیا
ہم نے مانا خراب ہے دنیا
پر یہ آخر جناب ہے، دنیا
اے مِرے دل! نہ پھول دنیا پر
اے مِرے دل! حباب ہے دنیا
کام اپنا وہی پرانا ہے
جو بھی روٹھے اسے منانا ہے
آپ درویش سے دعا لیجے
ان کی ٹھوکر میں اک زمانہ ہے
شعر دل سے خطاب کرتے ہیں
شاعری روح کا ترانہ ہے
عارضی بوسوں کی ٹوکری
میں
دریا کنارے بیٹھے
ٹوکری لے کر
ایک ایک کر کے سرخ، گلابی اور سفید بوسے
پانی میں بہا رہا ہوں
یہ جون کی چوبیسویں تاریخ ہے
چھتری میری شاعری کے لیے ایک نیا لفظ ہے
بارش میرے پیروں تک آگئی ہے
میرے گلے تک پہنچنی والی ریت
میں کبھی بھی نگل سکتا ہوں
جان یہ جنگ لڑنے کے لیے مجھے
کسی کی ضرورت نہیں ہے
دریافت
ناممکن محبتوں کے پیچھے پڑنے سے بہتر ہے
ہم اپنی حیثیت کا پیچھا کریں
بغیر کسی کو بتائے
جو سائے کی طرح
ہمارا پیچھا کرتی ہے
ایک شخص کو
شہر کے بیچوں بیچ کھڑا کر دیا جاتا ہے
تاکہ کوے
شہریوں کے سر نہ نوچ سکے
ایک رسی پر
ننگے پیر چلتے ہوئے
کوئی نہیں ہے
کوئی ہے جو خدا کے آنسو پونچھے
کوئی نہیں ہے
ماں چُپ ہے
خدا کی آواز چلی گئی ہے
ماں بیٹے کی موت کی خبر سن کر بہری ہو گئی
اپنی نسیں کاٹنے سے بہتر ہے
گمان کے ان درختوں کو کاٹا جائے
جن کے سائے میں بیٹھ کر
جنت کے بارے سوچتے
اور تھک کر سو جاتے ہیں
سوچنے والوں کو جب نیند آتی ہے
سوال ہی کیوں
دیوار پہ چڑھتی بلی
اور نظم میں مشترک
بھوک ہو سکتی ہے
یا تجسس
یا پاگل پن