Friday, 10 March 2023

کام اپنا وہی پرانا ہے جو بھی روٹھے اسے منانا ہے

 کام اپنا وہی پرانا ہے

جو بھی روٹھے اسے منانا ہے

آپ درویش سے دعا لیجے

ان کی ٹھوکر میں اک زمانہ ہے

شعر دل سے خطاب کرتے ہیں

شاعری روح کا ترانہ ہے

میں تو بس کھویا کھویا رہتا ہوں

لوگ کہتے ہیں کہ دیوانہ ہے

رشتہ ناطے وہ چھوڑ کر نکلے

روپیہ پیسہ جسے کمانا ہے

آپ سے ہم جو عشق کر بیٹھے

آپ کے ناز اب اٹھانا ہے

تجھ کو پا لیں گے ہم سہولت سے

ایک دل ہی تو بس گنوانا ہے

پھر میں دنیا میں کیوں بناؤں محل

قبر ہی جب مِرا ٹھکانا ہے

یاد اک بار آ مسلسل تو

تجھ کو یکسر ہمیں بھلانا ہے

ہم جو اک دوسرے سے بچھڑے ہیں

ہم نے اک دوسرے کو جانا ہے

عشق کرنا بھی تو حقیقت میں

جاں سے جانے کا اک بہانا ہے

رقص کرنا الم کی شدت میں

موج میں آدمی کا آنا ہے


نسیم خان

No comments:

Post a Comment