کام اپنا وہی پرانا ہے
جو بھی روٹھے اسے منانا ہے
آپ درویش سے دعا لیجے
ان کی ٹھوکر میں اک زمانہ ہے
شعر دل سے خطاب کرتے ہیں
شاعری روح کا ترانہ ہے
میں تو بس کھویا کھویا رہتا ہوں
لوگ کہتے ہیں کہ دیوانہ ہے
رشتہ ناطے وہ چھوڑ کر نکلے
روپیہ پیسہ جسے کمانا ہے
آپ سے ہم جو عشق کر بیٹھے
آپ کے ناز اب اٹھانا ہے
تجھ کو پا لیں گے ہم سہولت سے
ایک دل ہی تو بس گنوانا ہے
پھر میں دنیا میں کیوں بناؤں محل
قبر ہی جب مِرا ٹھکانا ہے
یاد اک بار آ مسلسل تو
تجھ کو یکسر ہمیں بھلانا ہے
ہم جو اک دوسرے سے بچھڑے ہیں
ہم نے اک دوسرے کو جانا ہے
عشق کرنا بھی تو حقیقت میں
جاں سے جانے کا اک بہانا ہے
رقص کرنا الم کی شدت میں
موج میں آدمی کا آنا ہے
نسیم خان
No comments:
Post a Comment