Friday, 10 March 2023

مرے سر پر گگن کی چھت بہت ہے

مِرے سر پر گگن کی چھت بہت ہے

پہاڑوں سے مجھے اُلفت بہت ہے

کہیں کھیتی، کہیں چہروں پہ رونق

بلوچستان میں ٭بہجت بہت ہے

چلو چلتے ہیں کُہساروں کی دُنیا

دماغِ شہر میں نفرت بہت ہے

یہ چھپّر کا محل، یہ موم بتی

نِوالے کی مگر قیمت بہت ہے

تم اپنی جنتوں کے ذائقے لو

مجھے تو وادئ تُربت بہت ہے

نکلتی ہی نہیں گُفتارِ صادق

تکلّم میں تِرے لُکنت بہت ہے

یہی تو فرق ہے دونوں کے مابین

یہاں ذِلّت، وہاں خِدمت بہت ہے

یہاں پوشاکِ پیدائش میں ظاہر

وہاں مستُورہ کی حُرمت بہت ہے

مگر ہیں سیر چشم و صاف خاطر

اگرچہ خلق میں غُربت بہت ہے

اسد کو منزلِ فطرت کی رہ میں

نگارِ جاں! تِری بیعت بہت ہے 


اسد اللہ قادری

٭بہجت: شگفتگی، فرحت، تازگی

No comments:

Post a Comment