Showing posts with label واصف علی واصف. Show all posts
Showing posts with label واصف علی واصف. Show all posts

Thursday, 18 January 2024

میں ماٹی کی مورتی ماٹی میرا دیس

 میں ماٹی کی مُورتی، ماٹی میرا دیس

ماٹی موری جات ہے، مَیں لائی سندیس

ماٹی بھید اَگم کا، ماٹی کی کیا بات

سُندر پُھول سے پوچھیو، ماٹی کیسا دیس

ماٹی میں جل اَگنی، ماٹی پَوَن جھکور

ماٹی ہی من موہنی، ماٹی کرے کلیس

Monday, 16 October 2023

انوار برستے ہیں اس پاک نگر کی راہوں میں

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


انوار برستے ہیں اس پاک نگر کی راہوں میں 

اک کیف کا عالم ہوتا ہے طیبہ کی مست ہواؤں میں 

اس نامِ محمدﷺ کے صدقے بگڑی ہوئی قسمت بنتی ہے 

اس کو بھی پناہ مل جاتی ہے جو ڈُوب گیا ہو گناہوں میں 

گیسوئے محمدﷺ کی خُوشبو، اللہ اللہ کیا خُوشبو ہے

احساس معطر ہوتا ہے، واللیل کی مہکی چھاؤں میں

Friday, 29 September 2023

مبارک اہل ایماں کو کہ ختم المرسلیں آئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مبارک اہل ایماں کو کہ ختم المرسلیں آئے 

مبارک، صد‌ مبارک بانیٔ دِین‌ مبیں آئے 

مبارک ہو کہ دنیا میں شہؐ دنیا و دِیں آئے 

چراغ طُور آئے زینتِ عرشِ بریں آئے 

کہ حسن ذات دینے کے لیے ذوق یقیں آئے 

مبارک ہو جہاں کو رحمۃ اللعالمیں آئے 


Sunday, 21 May 2023

ستم ہوں گے مگر پیہم نہ ہوں گے

 ستم ہوں گے مگر پیہم نہ ہوں گے

کرم ہوں گے مگر جب ہم نہ ہوں گے

اگر تُو نے ستم سے ہاتھ کھینچا

تو کیا ہم آشنائے غم نہ ہوں گے

کہِیں تُو بجھ نہ جائے شمعِ محفل

پتنگوں کے عزائم کم نہ ہوں گے

Tuesday, 16 May 2023

کرتے ہیں کرم جس پہ بھی سرکار مدینہ

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


کرتے ہیں کرم جس پہ بھی سرکارِ مدینہ 

ہوتا ہے نصیب اس کو ہی دیدارِ مدینہ 

پڑھتا ہے درودؐ آپ کی جو ذات پہ ہر دم 

ملتا ہے اسے سایۂ دیوارِ مدینہ

اس شخص کو دنیا کا کوئی غم نہیں ہوتا 

وہ شخص جو رہتا ہے طلبگارِ مدینہ 

Saturday, 9 July 2022

افسردہ ہیں افلاک و زمیں عید مبارک

 افسردہ ہیں افلاک و زمیں، عید مبارک

آزردہ مکان اور مکیں، عید مبارک

یہ صبحِ مسرت ہے کہ شامِ غریباں

رنجیدہ و دلگیر و حزیں، عید مبارک

کہنا ہے بصد عجز یہ اربابِ وطن سے

کب آئے گا وہ دورِ حسیں، عید مبارک

Friday, 10 June 2022

بام اقصیٰ سے چلا رشک قمر آج کی رات

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


بامِ اقصیٰ سے چلا رشکِ قمر آج کی رات

فرشِ رہ ہو گئی تاروں کی نظر آج کی رات

مِثلُکُم ہی سہی انسان مگر آج کی رات

عرش پر کرنے گیا ہے وہ بسر آج کی رات

ڈھل گئے نُور میں سب ارض و سما کون و مکاں

لامکاں تک ہوئی پروازِ بشر آج کی رات

Wednesday, 29 December 2021

کرم کی اک نظر ہو جان عالم یا رسول اللہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کرم کی اک نظر ہو جانِ عالم، یا رسول اللہﷺ

تِری امت پہ ہے افتاد پیہم، یا رسول اللّہ

بنایا تھا تمہارے نام سے جو آشیاں ہم نے

گری ہے اس پہ ہو کے برہم ، یا رسول اللہ

بڑے دم خم سےآزادی کی صبحِ نو کو دیکھا تھا

ستم ہے دم رہا اس میں نہ اب خم، یا رسول اللہ

Sunday, 15 August 2021

جذبات زیر گردش حالات سو گئے

 جذبات زیرِ گردشِ حالات سو گئے

چھائی گھٹا تو رندِ خرابات سو گئے

منزل سے دور جاگتی سوچیں تھیں ذہن میں

منزل پہ آ گئے تو خیالات سو گئے

تاروں نے ہم کو دیکھ کے شبنم سے یہ کہا

یہ بدنصیب وقت مناجات سو گئے

Sunday, 11 February 2018

جو لوگ سمندر میں بھی رہ کر رہے پیاسے

جو لوگ سمندر میں بھی رہ کر رہے پیاسے
اک ابر کا ٹکڑا انہیں کیا دے گا دلاسے
مانا کہ ضروری ہے نگہبانی خودی کی
بڑھ جائے نہ انسان مگر اپنی قبا سے
برسوں کی مسافت میں وہ طے ہو نہیں سکتے
جو فاصلے ہوتے ہیں نگاہوں میں ذرا سے

میں آرزوئے دید کے کس مرحلے میں ہوں

میں آرزوئے دید کے کس مرحلے میں ہوں
خود آئینہ ہوں یا میں کسی آئینے میں ہوں
رہبر نے کیا فریب دیئے ہیں مجھے، نہ پوچھ
منزل پہ ہوں نہ اب میں کسی راستے میں ہوں
اس دم نہیں ہے فرق، صبا و سموم میں
احساس کے لطیف سے اک دائرے میں ہوں

Sunday, 15 January 2017

دل ان سے جو مانگا تو پشیمان ہوئے ہم

دل ان سے جو مانگا تو پشیمان ہوئے ہم 
نادان تھے، نادان تھے، نادان ہوئے ہم
ہم تجھ کو دکھا دیتے خدائی کا تماشہ
سو باتوں کی اک بات کہ انسان ہوئے ہم
جب سے تِری چھوکٹ پہ جھکایا ہے جبیں کو 
ہم رِند بنے، مستئ عرفان ہوئے ہم

میں کہاں اور کوئے یار کہاں

میں کہاں اور کوئے یار کہاں
وہ بلا لیں، یہ اختیار کہاں
آ ہی نکلے جو مۓ کدے میں ہم
رہ گیا پاس ننگ و عار کہاں
وہ ہوئے مائل بہ کرم خود ہی
ہم نے ان سے کیا ہے پیار کہاں

الٰہی واسطہ رحمت کا تجھ کو

دعا

الہٰی واسطہ رحمت کا تجھ کو
الہٰی واسطہ وسعت کا تجھ کو
الہٰی واسطہ عظمت کا تجھ کو
الہٰی واسطہ قوت کا تجھ کو
الہٰی واسطہ شوکت کا تجھ کو
الہٰی واسطہ عزت کا تجھ کو

Tuesday, 13 January 2015

گلہ نہیں ہے اگر میں تری نظر میں نہیں

گِلہ نہیں ہے اگر میں تِری نظر میں نہیں
ستارہ کوئی بھی اِس وقت اپنے گھر میں نہیں
تِری طرح مِری دنیا میں اِختیار کِسے
مِری طرح کوئی بے بس تِرے نگر میں نہیں
کِیا ہے فکرِ نشیمن سے برق نے آزاد
خدا کا شُکر کہ اَب میں کسی خطر میں نہیں

Sunday, 1 June 2014

ان سے ہو روز ملاقات ضروری تو نہیں

ان سے ہو روز ملاقات ضروری تو نہیں
ہو ملاقات میں کچھ بات ضروری تو نہیں
جام چھلکاتی ہو برسات ضروری تو نہیں
مے کشی رندِ خرابات! ضروری تو نہیں​
یوں تو ہر رات کی قسمت میں ہے سحر لیکن
ہاں مگر ہجر کی اک رات ضروری تو نہیں

جو لوگ سمندر میں بھی رہ کر رہے پیاسے

جو لوگ سمندر میں بھی رہ کر رہے پیاسے
اک ابر کا ٹکڑا انہیں کیا دے گا دلاسے
مانا کہ ضروری ہے نگہبانی خودی کی
بڑھ جائے نہ انسان مگر اپنی قبا سے
برسوں کی مسافت میں وہ طے ہو نہیں سکتے
جو فاصلے ہوتے ہیں نگاہوں میں ذرا سے

Monday, 23 July 2012

میں نعرۂ مستانہ میں شوخئ رِندانہ

 میں نعرۂ مستانہ، میں شوخئ رِندانہ

میں تشنہ کہاں جاؤں، پی کر بھی کہاں جانا

میں طائرِ لاہُوتی، میں جوہرِ ملکُوتی

ناسُوتی نے کب مُجھ کو، اس حال میں پہچانا

میں سوزِ محبت ہوں، میں ایک قیامت ہوں

میں اشکِ ندامت ہوں، میں گوہرِ یکدانہ

کس یاد کا صحرا ہوں، کس چشم کا دریا ہوں

خُود طُور کا جلوہ ہوں، ہے شکل کلیمانہ

میں شمعِ فروزاں ہوں، میں آتشِ لرزاں ہوں

میں سوزشِ ہجراں ہوں، میں منزلِ پروانہ

میں حُسنِ مجسّم ہوں، میں گیسوئے برہم ہوں

میں پُھول ہوں شبنم ہوں، میں جلوۂ جانانہ

میں واصفِ بسمل ہوں، میں رونقِ محفل ہوں

اِک ٹُوٹا ہوا دل ہوں، میں شہر میں ویرانہ


واصف علی واصف


Main nara-e-mastana, main shokhi-e-rindana
Main tashna kahan jaaon, pee kar bhi kahan jana

Slogan of Inebriation am I, drunkard mercurialness am I
Drink may I, may I not hardly does it make a difference

Main souz-e-mohabbat hoon, main aik qayamat hoon
Main ashk-e-nadaamat hoon, main gouhar-e-yakdana

A burning heat of love am I, the eventual
Tear of ignominy, a pearl unfound am I

Main tair-e-lahooti, main johar-e-malkooti
Nasoot ne kab mujh ko is haal mein pehchana

Pern of heaven, the gem of empires and I
Hath when humanity known me so?

Main sham-e-farozan hoon, main aatish-e-larza hoon
Main sozish-e-hijraan hoon, main manzil-e-parwana

Illuminating light of the dusk, a raging flame am I
Mordancy of parting, Destination of Pyralid am I

Kis yaad ka sehra hoon, kis chashm ka darya hoon
Khud toor ka jalwa hoon, hai shakl qalbhana

A desert of thoughts, a river of which fall?
the biggest reality of the universe yet unrevealed

Main husn-e-mujassim hoon, main gesu-e-barham hoon
Main phool hoon shabnam hoon, main jalwa-e-janana

A  frozen beauty am I, a ringlet in anger
A flower, the dew am I, beauty of the beloved

Main wasif-e-bismil hoon, main ronaq-e-mehfil hoon
Ik toota howa dil hoon, main shehar mein veerana

Wasif, slayed am I, heart of the crowd
A broken heart am I, a lonely in the city.


Poet: Wasif Ali Wasif

٭ English translation in black color

Sunday, 22 July 2012

رہبر کارواں حسین رہرہ بے گماں حسین

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

رہبرِ کارواں حسین، رہرہِ بے گماں حسین
آج مگر کہاں حسین، مرکزِ ہر فغاں حسین
ہائے قتیلِ بے خطا، ہائے شہیدِ بارضا
دشتِ بلا میں بے نوا، راقمِ داستاں حسین
اصغر و اکبر و عباس، کوئی نہیں ہے آج پاس
گویا وفا ہے حرفِ یاس، پیکرِ بے زباں حسین

رخصتی ; ہم پردیسی اس آنگن میں

رخصتی
 
ہم پردیسی اس آنگن میں
دیس ہمارا دور، بابل یہ کیسا دستور
چھوڑ کے تیری نگری کو ہم
جانے پر مجبور، بابل یہ کیسا دستور
کوئی نہ جائے ساتھ ہمارے
ہم تنہا پنچھی بے چارے