میں ماٹی کی مُورتی، ماٹی میرا دیس
ماٹی موری جات ہے، مَیں لائی سندیس
ماٹی بھید اَگم کا، ماٹی کی کیا بات
سُندر پُھول سے پوچھیو، ماٹی کیسا دیس
ماٹی میں جل اَگنی، ماٹی پَوَن جھکور
ماٹی ہی من موہنی، ماٹی کرے کلیس
میں ماٹی کی مُورتی، ماٹی میرا دیس
ماٹی موری جات ہے، مَیں لائی سندیس
ماٹی بھید اَگم کا، ماٹی کی کیا بات
سُندر پُھول سے پوچھیو، ماٹی کیسا دیس
ماٹی میں جل اَگنی، ماٹی پَوَن جھکور
ماٹی ہی من موہنی، ماٹی کرے کلیس
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
انوار برستے ہیں اس پاک نگر کی راہوں میں
اک کیف کا عالم ہوتا ہے طیبہ کی مست ہواؤں میں
اس نامِ محمدﷺ کے صدقے بگڑی ہوئی قسمت بنتی ہے
اس کو بھی پناہ مل جاتی ہے جو ڈُوب گیا ہو گناہوں میں
گیسوئے محمدﷺ کی خُوشبو، اللہ اللہ کیا خُوشبو ہے
احساس معطر ہوتا ہے، واللیل کی مہکی چھاؤں میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مبارک اہل ایماں کو کہ ختم المرسلیں آئے
مبارک، صد مبارک بانیٔ دِین مبیں آئے
مبارک ہو کہ دنیا میں شہؐ دنیا و دِیں آئے
چراغ طُور آئے زینتِ عرشِ بریں آئے
کہ حسن ذات دینے کے لیے ذوق یقیں آئے
مبارک ہو جہاں کو رحمۃ اللعالمیں آئے
ستم ہوں گے مگر پیہم نہ ہوں گے
کرم ہوں گے مگر جب ہم نہ ہوں گے
اگر تُو نے ستم سے ہاتھ کھینچا
تو کیا ہم آشنائے غم نہ ہوں گے
کہِیں تُو بجھ نہ جائے شمعِ محفل
پتنگوں کے عزائم کم نہ ہوں گے
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
کرتے ہیں کرم جس پہ بھی سرکارِ مدینہ
ہوتا ہے نصیب اس کو ہی دیدارِ مدینہ
پڑھتا ہے درودؐ آپ کی جو ذات پہ ہر دم
ملتا ہے اسے سایۂ دیوارِ مدینہ
اس شخص کو دنیا کا کوئی غم نہیں ہوتا
وہ شخص جو رہتا ہے طلبگارِ مدینہ
افسردہ ہیں افلاک و زمیں، عید مبارک
آزردہ مکان اور مکیں، عید مبارک
یہ صبحِ مسرت ہے کہ شامِ غریباں
رنجیدہ و دلگیر و حزیں، عید مبارک
کہنا ہے بصد عجز یہ اربابِ وطن سے
کب آئے گا وہ دورِ حسیں، عید مبارک
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
بامِ اقصیٰ سے چلا رشکِ قمر آج کی رات
فرشِ رہ ہو گئی تاروں کی نظر آج کی رات
مِثلُکُم ہی سہی انسان مگر آج کی رات
عرش پر کرنے گیا ہے وہ بسر آج کی رات
ڈھل گئے نُور میں سب ارض و سما کون و مکاں
لامکاں تک ہوئی پروازِ بشر آج کی رات
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کرم کی اک نظر ہو جانِ عالم، یا رسول اللہﷺ
تِری امت پہ ہے افتاد پیہم، یا رسول اللّہ
بنایا تھا تمہارے نام سے جو آشیاں ہم نے
گری ہے اس پہ ہو کے برہم ، یا رسول اللہ
بڑے دم خم سےآزادی کی صبحِ نو کو دیکھا تھا
ستم ہے دم رہا اس میں نہ اب خم، یا رسول اللہ
جذبات زیرِ گردشِ حالات سو گئے
چھائی گھٹا تو رندِ خرابات سو گئے
منزل سے دور جاگتی سوچیں تھیں ذہن میں
منزل پہ آ گئے تو خیالات سو گئے
تاروں نے ہم کو دیکھ کے شبنم سے یہ کہا
یہ بدنصیب وقت مناجات سو گئے
میں نعرۂ مستانہ، میں شوخئ رِندانہ
میں تشنہ کہاں جاؤں، پی کر بھی کہاں جانا
میں طائرِ لاہُوتی، میں جوہرِ ملکُوتی
ناسُوتی نے کب مُجھ کو، اس حال میں پہچانا
میں سوزِ محبت ہوں، میں ایک قیامت ہوں
میں اشکِ ندامت ہوں، میں گوہرِ یکدانہ
کس یاد کا صحرا ہوں، کس چشم کا دریا ہوں
خُود طُور کا جلوہ ہوں، ہے شکل کلیمانہ
میں شمعِ فروزاں ہوں، میں آتشِ لرزاں ہوں
میں سوزشِ ہجراں ہوں، میں منزلِ پروانہ
میں حُسنِ مجسّم ہوں، میں گیسوئے برہم ہوں
میں پُھول ہوں شبنم ہوں، میں جلوۂ جانانہ
میں واصفِ بسمل ہوں، میں رونقِ محفل ہوں
اِک ٹُوٹا ہوا دل ہوں، میں شہر میں ویرانہ
واصف علی واصف