Friday, 10 June 2022

بام اقصیٰ سے چلا رشک قمر آج کی رات

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


بامِ اقصیٰ سے چلا رشکِ قمر آج کی رات

فرشِ رہ ہو گئی تاروں کی نظر آج کی رات

مِثلُکُم ہی سہی انسان مگر آج کی رات

عرش پر کرنے گیا ہے وہ بسر آج کی رات

ڈھل گئے نُور میں سب ارض و سما کون و مکاں

لامکاں تک ہوئی پروازِ بشر آج کی رات

قابَ قَوسَین“ سے ادنیٰ ہے مقامِ محمود”

سرنگوں کر گئی ادراک کا سر آج کی رات

عشقِ بے تاب کی کیا بات ہے اللہ اللہ

کھل گئے گنبدِ افلاک کے در آج کی رات

شبِ اسریٰ پہ ہوں قربان ہزاروں راتیں

بزمِ ہستی کی ہے تابندہ سحر آج کی رات

بے خبر، رفعتِ آدم سے ہے جبریلِ امیں

منزلِ ”سدرہ“ ہوئی گردِ سفر آج کی رات

مرحبا سیّدِ مکّی، مدنی العربی

عرش سے لائے دعاؤں کا اثر آج کی رات

حُسن ہے حدِ تعیّن سے وراء آج کی رات

چل دیا سوئے خدا، نورِ خدا آج کی رات

آج کی رات ہے تکمیلِ عروجِ آدم

حُسنِ تخلیق پہ نازاں ہے خدا آج کی رات

آ گیا جوش میں رحمت کا سمندر اِمشب

گنجِ مخفی ہوا مائل بہ عطا آج کی رات

نکہت و نور میں ڈھلنے لگے لمعاتِ جمال

چشمِ فطرت ہوئی حیراں بخدا آج کی رات

دل دھڑکتے ہیں ستاروں کے، قمر چشم براہ

حور و غلماں نے کہا ”صلِّ علیٰ“ آج کی رات

خوشبوئے گیسوئے واللّیل سے مہکا عالم

چشمِ ”ما زاغ“ ہوئی جلوہ نما آج کی رات

بزمِ رنداں نہ ہوئی ورنہ یہ کہتا واصف

حُسن خود شوخی رندانہ ہوا آج کی رات

دم بخود گردشِ افلاک و زمیں آج کی رات

سرنگوں چاند ستاروں کی جبیں آج کی رات

جگمگاتا ہی رہے عرشِ بریں آج کی رات

لامکاں میں ہوا انسان مکیں آج کی رات

شوقِ دیدار کی کیا بات ہے اللہ اللہ

درمیاں میم کا پردہ بھی نہیں آج کی رات

منزلِ سدرہ سے آگے ہے مقامِ محمود

دیکھتے رہ گئے جبریلِ امیں آج کی رات

حُور و غلمان و ملائک کی زباں پر آیا

حُسن ہے حدِّ تعیّن سے حسیں آج کی رات

جانے والا اسے سمجھے کہ بلانے والا

کوئی اس راز کا ہمراز نہیں آج کی رات

رفعتِ صاحبِ لولاک کوئی کیا سمجھے

خاک پر گھِستی رہی عقل، جبیں آج کی رات

آج کی رات دعا مانگ رہا ہے واصف

کر عطا ربِّ عُلیٰ فتحِ مبیں آج کی رات


واصف علی واصف

No comments:

Post a Comment