میں تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا
میں جیسا ہوں مجھے ویسا قبول کرو
میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بنائے
اور
نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں
کیا اس انسان کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں
جو ریاضی میں بمشکل پاس ہوتا رہا ہو؟
میں لکھنا ضرور جانتا ہوں
مگر اپنی تقدیر میں نے نہیں لکھی
تم مجھے حاصل کر سکتی ہو
اس کم سے کم قیمت پر
جو کسی آدمی کی لگائی جا سکتی ہے
زندگی گرمیوں کی دوپہر ہے
خواب دیکھتے ہوئے انسان
خدا کے بائیں طرف سو رہا ہوتا ہے
میں نے خود کو ایک کتاب کی طرح پیش کر دیا
یہ سوچے بغیر کہ
کوئی لڑکی کسی مرد کے بارے میں کیا نہیں پڑھنا چاہتی
تم میرے اندر بوڑھی ہو رہی ہو
اس خواب کی طرح
جسے کچھ دنوں بعد زہر کا انجکشن لگایا جاتا ہے
ہر آغاز انجام کی طرف
اور
ہم انجام سے آغاز کی طرف بڑھ رہے ہیں
میں جانتا ہوں
میری عمر کے ایک ارب مردوں میں سے
میرا انتخاب کرنا
تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا
ساحر شفیق
No comments:
Post a Comment