Showing posts with label بزم آفندی. Show all posts
Showing posts with label بزم آفندی. Show all posts

Sunday, 28 June 2026

خنجر سے کچھ ہے کام نہ شمشیر سے غرض

 خنجر سے کچھ ہے کام نہ شمشیر سے غرض

دل کو تو اس نگاہ کے ہے تیر سے غرض

رکھتے ہیں ہم ولی نہ کسی پیر سے غرض

گر ہے تو اپنے شپر و شپیر سے غرض

دنیا کے لوگ رکھتے ہیں تدبیر سے غرض

ہم کو ہے اپنے پالک تدبیر تدبیر سے غرض

Sunday, 16 June 2024

دولت مدح نبی دین کا سرمایا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دولت مدح نبیﷺ دین کا سرمایا ہے

اسی نایاب رقم سے یہ شرف پایا ہے

کلمہ پڑھتی ہے فصاحت وہ مِرا پایا ہے

بیت ہر اک مِری قرآن کا اک آیا ہے

عرش منبر پہ مکیں ہوں یہ قرینہ دیکھیں

کلمہ گو مِری معراج کا زینہ دیکھیں

کنندہ در خیبر بھی کون شیر خدا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

مدح جناب امیرالمومنین مولیٰ علیؑ


کنندہ در خیبر بھی کون، شیر خدا

علی و عالی و معصوم و بت شکن، مولا

وصی احمدؐ مرسلﷺ، معین شاہ و گدا

قسیم نار و جناں، زوج حضرت زہراؑ

امام خلق بھی، پیش خدا جلیل بھی ہیں

نبیؐ کے خویش بھی، استاد جبریلؑ بھی ہیں

Friday, 14 June 2024

کچھ بھی کر سکتا نہیں تدبیر سے

 کچھ بھی کر سکتا نہیں تدبیر سے

آدمی مجبور ہے تقدیر سے

ٹکڑے کیوں کرتے ہو دلِ شمشیر سے

توڑو یہ شیشہ نگہ کے تیر سے

جم سکی رنگت نہ بزم غیر میں

اکھڑی اکھڑی آپ کی تقریر سے