خنجر سے کچھ ہے کام نہ شمشیر سے غرض
دل کو تو اس نگاہ کے ہے تیر سے غرض
رکھتے ہیں ہم ولی نہ کسی پیر سے غرض
گر ہے تو اپنے شپر و شپیر سے غرض
دنیا کے لوگ رکھتے ہیں تدبیر سے غرض
ہم کو ہے اپنے پالک تدبیر تدبیر سے غرض
خنجر سے کچھ ہے کام نہ شمشیر سے غرض
دل کو تو اس نگاہ کے ہے تیر سے غرض
رکھتے ہیں ہم ولی نہ کسی پیر سے غرض
گر ہے تو اپنے شپر و شپیر سے غرض
دنیا کے لوگ رکھتے ہیں تدبیر سے غرض
ہم کو ہے اپنے پالک تدبیر تدبیر سے غرض
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دولت مدح نبیﷺ دین کا سرمایا ہے
اسی نایاب رقم سے یہ شرف پایا ہے
کلمہ پڑھتی ہے فصاحت وہ مِرا پایا ہے
بیت ہر اک مِری قرآن کا اک آیا ہے
عرش منبر پہ مکیں ہوں یہ قرینہ دیکھیں
کلمہ گو مِری معراج کا زینہ دیکھیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدح جناب امیرالمومنین مولیٰ علیؑ
کنندہ در خیبر بھی کون، شیر خدا
علی و عالی و معصوم و بت شکن، مولا
وصی احمدؐ مرسلﷺ، معین شاہ و گدا
قسیم نار و جناں، زوج حضرت زہراؑ
امام خلق بھی، پیش خدا جلیل بھی ہیں
نبیؐ کے خویش بھی، استاد جبریلؑ بھی ہیں
کچھ بھی کر سکتا نہیں تدبیر سے
آدمی مجبور ہے تقدیر سے
ٹکڑے کیوں کرتے ہو دلِ شمشیر سے
توڑو یہ شیشہ نگہ کے تیر سے
جم سکی رنگت نہ بزم غیر میں
اکھڑی اکھڑی آپ کی تقریر سے