Showing posts with label علی کاظم. Show all posts
Showing posts with label علی کاظم. Show all posts

Wednesday, 8 April 2026

ساتھ میں کوئی نہیں کوئی مگر لگتا ہے

 ساتھ میں کوئی نہیں کوئی مگر لگتا ہے

جس کو اپنے سے الگ کرنے میں ڈر لگتا ہے

یہ پرندے ہیں نئے ان سے کہو صبر کریں

پہلے لگتا ہے قفس، پھر یہی گھر لگتا ہے

زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے تم لاکھ چلو

ہمسفر ہو تو سفر کوئی سفر لگتا ہے

Saturday, 3 May 2025

بس یہ کام یہ نادان نہیں کرتے ہیں

 بس یہ کام یہ نادان نہیں کرتے ہیں

آدمی اپنے کو انسان نہیں کرتے ہیں

جان دے کر ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی

جان ہر شخص پہ قربان نہیں کرتے ہیں

سر جھکانے کی کسی در پہ ضرورت کیا ہے

اس قدر غیر پہ احسان نہیں کرتے ہیں

Saturday, 22 May 2021

تم جا رہے ہو ہم کو بھلانے کے واسطے

تم جا رہے ہو ہم کو بھلانے کے واسطے

ہم آ رہے ہیں تم کو منانے کے واسطے

پتھر کے پاس دل کہاں جس کو برا لگے

کیوں اتنا سوچتے ہو ہٹانے کے واسطے

کچھ سازشیں تو صرف اسی وجہ سے ہوئیں

اپنے کو سازشوں سے بچانے کے واسطے

Friday, 7 May 2021

کچھ جھوٹے کچھ سچے لوگ

کچھ جھُوٹے کچھ سچے لوگ

دیکھو رنگ برنگے لوگ

موم کے جیسا نازک دل

لمبے چوڑے تگڑے لوگ

تیری باتیں، تیرا ذکر

میری محفل تیرے لوگ