ساتھ میں کوئی نہیں کوئی مگر لگتا ہے
جس کو اپنے سے الگ کرنے میں ڈر لگتا ہے
یہ پرندے ہیں نئے ان سے کہو صبر کریں
پہلے لگتا ہے قفس، پھر یہی گھر لگتا ہے
زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے تم لاکھ چلو
ہمسفر ہو تو سفر کوئی سفر لگتا ہے
ساتھ میں کوئی نہیں کوئی مگر لگتا ہے
جس کو اپنے سے الگ کرنے میں ڈر لگتا ہے
یہ پرندے ہیں نئے ان سے کہو صبر کریں
پہلے لگتا ہے قفس، پھر یہی گھر لگتا ہے
زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے تم لاکھ چلو
ہمسفر ہو تو سفر کوئی سفر لگتا ہے
بس یہ کام یہ نادان نہیں کرتے ہیں
آدمی اپنے کو انسان نہیں کرتے ہیں
جان دے کر ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی
جان ہر شخص پہ قربان نہیں کرتے ہیں
سر جھکانے کی کسی در پہ ضرورت کیا ہے
اس قدر غیر پہ احسان نہیں کرتے ہیں
تم جا رہے ہو ہم کو بھلانے کے واسطے
ہم آ رہے ہیں تم کو منانے کے واسطے
پتھر کے پاس دل کہاں جس کو برا لگے
کیوں اتنا سوچتے ہو ہٹانے کے واسطے
کچھ سازشیں تو صرف اسی وجہ سے ہوئیں
اپنے کو سازشوں سے بچانے کے واسطے
کچھ جھُوٹے کچھ سچے لوگ
دیکھو رنگ برنگے لوگ
موم کے جیسا نازک دل
لمبے چوڑے تگڑے لوگ
تیری باتیں، تیرا ذکر
میری محفل تیرے لوگ