عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پھر وہ بخشش کی تمنا نہ کرے محشر میں
جس نے تسبیح درودوںﷺ کی نہ دہرائی ہو
مجھ پہ جنت کے بھی در آپ ہی وا ہونے لگیں
حوضِ کوثر پہ اگر میری پذیرائی ہو
ذکر ہو نعت میں جب شعبِ ابی طالب کا
کیسے ممکن ہے کہ آواز نہ بھر آئی ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پھر وہ بخشش کی تمنا نہ کرے محشر میں
جس نے تسبیح درودوںﷺ کی نہ دہرائی ہو
مجھ پہ جنت کے بھی در آپ ہی وا ہونے لگیں
حوضِ کوثر پہ اگر میری پذیرائی ہو
ذکر ہو نعت میں جب شعبِ ابی طالب کا
کیسے ممکن ہے کہ آواز نہ بھر آئی ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میرے لیے ہر ایک فضا سازگار ہے
اور کیوں نہ ہو کہ تو مِرا پروردگار ہے
دیدار اس کو اور نہ اسے ہو سکا نصیب
اِک طُور پر تها، ایک یہاں بے قرار ہے
کیا کیا نہ روگ جاں کو لگائے ہیں مالکا
جانا یہ جب کہ، تُو مِرا تیماردار ہے