Showing posts with label نیلم ملک. Show all posts
Showing posts with label نیلم ملک. Show all posts

Monday, 22 January 2024

پھر وہ بخشش کی تمنا نہ کرے محشر میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پھر وہ بخشش کی تمنا نہ کرے محشر میں

جس نے تسبیح درودوںﷺ کی نہ دہرائی ہو

مجھ پہ جنت کے بھی در آپ ہی وا ہونے لگیں

حوضِ کوثر پہ اگر میری پذیرائی ہو

ذکر ہو نعت میں جب شعبِ ابی طالب کا

کیسے ممکن ہے کہ آواز نہ بھر آئی ہو

Friday, 14 July 2023

میرے لیے ہر ایک فضا سازگار ہے

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میرے لیے ہر ایک فضا سازگار ہے

اور کیوں نہ ہو کہ تو مِرا پروردگار ہے

دیدار اس کو اور نہ اسے ہو سکا نصیب

اِک طُور پر تها، ایک یہاں بے قرار ہے

کیا کیا نہ روگ جاں کو لگائے ہیں مالکا

جانا یہ جب کہ، تُو مِرا تیماردار ہے

Tuesday, 28 July 2020

میں خود کو تسخیر کروں تو بنتا ہے

میں خود کو تسخیر کروں، تُو بنتا ہے
خواب اپنا تعبیر کروں، تو بنتا ہے
خوشبو کو زنجیر کیا کس نے اب تک
خوشبو کو زنجیر کروں، تو بنتا ہے
منظر میں مہتاب دکهائی دے مجھ کو
جب اس کو تصویر کروں، تو بنتا ہے

مانا کہ مدتوں سے اجالے نہیں ہوئے

مانا کہ مدتوں سے اجالے نہیں ہوئے
ہم پھر بھی ظلمتوں کے حوالے نہیں ہوئے
برتے ہیں ذرہ ذرہ، جیے ہیں ذرا ذرا 
ہم نے تمہارے درد سنبھالے نہیں ہوئے 
قسمت کا پھیر ہے جو پھراتا ہے دربدر
ہم بد نصیب گھر سے نکالے نہیں ہوئے

دل بدگماں کے توہمات عجیب ہیں

دلِ بد گماں کے توہمات عجیب ہیں
مِرے نام کے یہ حروف سات عجیب ہیں
نہ تخیلات گرفتِ حرف میں آ سکے
یہ نزولِ شعر کی مشکلات عجیب ہیں
تُو تلاش کر کوئی اور علاجِ دلِ حزیں
کہ دوائے عشق کے مضمرات عجیب ہیں

Monday, 27 July 2020

کچھڑی؛ زمانہ تیز دھار ہے

کچھڑی

زمانہ تیز دھار ہے
جو چل گیا سو پار ہے
اسی سے کوئی سیکھ لے
اور اپنا کُند تِیکھ لے
نہیں تو کٹ

کیا بچاؤں تجھے کیا لٹاؤں تجھے مختصر زندگی

کیا بچاؤں تجھے کیا لٹاؤں تجھے، مختصر زندگی
خود پہ اوڑھوں کہ نیچے بچھاؤں تجھے مختصر زندگی
ذرہ ذرہ بکھر کر بھی آخر تجھے ختم ہونا تو ہے
کیوں نہ یکدم ہوا میں اڑاؤں تجھے مختصر زندگی
تیری کھیتی پہ اپنا گزارا نہیں، بھوک مِٹتی نہیں
جی میں آتا ہے اب بیچ کھاؤں تجھے مختصر زندگی

خود میں تحلیل کر لیا خود کو

خود میں تحلیل کر لِیا خود کو
یعنی، تبدیل کر لیا خود کو
میں سمندر بنا سکی نہ تجهے
آخرش جهیل کر لیا خود کو
یوں بهی جلنا نصیب تها اس کا
دل نے قندیل کر لیا خود کو

کیسے دل کو روشن کرتی آوازیں

کیسے دل کو روشن کرتی آوازیں
اجلے لفظ تھے لیکن میلی آوازیں
پتھر جیسی کور سماعت پر گرتی
چھن چھن کرتے گھنگرو جیسی آوازیں
ایک طرف ساکت ہے نیلی خاموشی
اک جانب رقصاں زہریلی آوازیں

Sunday, 26 July 2020

یوں تو تھی یہ سعادت نہ تقدیر میں

یوں تو تھی یہ سعادت نہ تقدیر میں
چوم لی تیری پیشانی تصویر میں
مختلف تر لگے بات کرتے ہوئے
آپ تھے مختلف اپنی تسطیر میں
شعر ہو جائے تو اس سے آزاد ہوں
ہم ہیں الجھے خیالِ "گرہ گیر" میں

وہی تھے جو اپنی جستجو میں کھرے نہیں تھے

وہی تھے جو اپنی جستجو میں کھرے نہیں تھے
وگرنہ ہم ان کی دسترس سے پرے نہیں تھے
تبھی وہ سمجھے کہ ہم کھلونے نہیں ہیں جب ہم
وہاں سے ان کو ملے جہاں پر دھرے نہیں تھے
درخت پھر سے ہرا، پھلوں سے بھرا ہوا ہے
مگر وہ پتے بہار میں جو "ہرے" نہیں تھے

والعصر زمانہ مرے مطلب کا نہیں ہے

والعصر زمانہ مِرے مطلب کا نہیں ہے
یہ آئینہ خانہ مِرے مطلب کا نہیں ہے
کہتی ہیں، نہ لا پائیں گی یہ تابِ نطارہ
آنکهوں کا بہانہ، مِرے مطلب کا نہیں ہے
آئی ہوں تِرے واسطےجنت سے زمیں پر
ورنہ، یہ ٹهکانا مِرے مطلب کا نہیں ہے