عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو طاعت گزارِ پیمبر نہیں ہے
میسر اسے فضلِ داور نہیں ہے
جو یاد محمدﷺ پہ مضطر نہیں ہے
پھر اور کیا ہے جو پتھر نہیں ہے
نہیں ربط جس کو خدا سے نبیؐ سے
سکوں اس کو ہرگز میسّر نہیں ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو طاعت گزارِ پیمبر نہیں ہے
میسر اسے فضلِ داور نہیں ہے
جو یاد محمدﷺ پہ مضطر نہیں ہے
پھر اور کیا ہے جو پتھر نہیں ہے
نہیں ربط جس کو خدا سے نبیؐ سے
سکوں اس کو ہرگز میسّر نہیں ہے
آپ سے قطع رسم و راہ نہ کی
زندگی مُفت میں تباہ نہ کی
یہ ہے عظمت مِری محبت کی
تم کو پایا تو اور چاہ نہ کی
عُمر بھر ہم فقط رہے محکوم
آرزوئے جلال و جاہ نہ کی
اپنا یہ عشق باعث رسوائی بن گیا
سارا جہان میرا تماشائی بن گیا
بیشک مرے خلوص کا یہ ہے کھلا ثبوت
دشمن جو کل تلک تھا، مِرا بھائی بن گیا
ایمان کی تھی شرط تو وہ اور بات تھی
ذاتی مفاد کے لیے عیسائی بن گیا
دُنیا اُلٹی ادا سمجھتی ہے
بے وفا کو وفا سمجھتی ہے
کرب و چیخ اور پُکار کو دُنیا
اب خُوشی کی صدا سمجھتی ہے
ایسی ہستی ہے آج بھی موجود
جو بھلوں کو بھلا سمجھتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ذکر خیر الوریٰ ہے اور میں ہوں
خوشبوؤں کی فضا ہے اور میں ہوں
کیسی تسکین مل رہی ہے مجھے
آگے نُورِ خدا ہے اور میں ہوں
آپﷺ کے شہر میں پہنچنے کا
شوق بے انتہا ہے اور میں ہوں
تجھ کو تیرا عدُو نہ مارے گا
دوست ہی تیرا سر اُتارے گا
آج رُوٹھی ہوئی ہے کچھ تقدیر
تُو یہ بازی ضروری ہارے گا
ہو گا تیرا وقار بھی مجرُوح
اپنا دامن اگر پسارے گا