اپنا یہ عشق باعث رسوائی بن گیا
سارا جہان میرا تماشائی بن گیا
بیشک مرے خلوص کا یہ ہے کھلا ثبوت
دشمن جو کل تلک تھا، مِرا بھائی بن گیا
ایمان کی تھی شرط تو وہ اور بات تھی
ذاتی مفاد کے لیے عیسائی بن گیا
سنتا تھا اور مجھے بھی ہُوا اس کا تجربہ
پہلی نظر میں تیرا تمنائی بن گیا
سارا جہاں کلیم فدا مجھ پہ ہے ابھی
جب سے میں اس حسینہ کا شیدائی بن گیا
کلیم طاہری
کے اقبال احمد
No comments:
Post a Comment