اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہے
حُسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہے
رات اندھیری ہے بیاباں بھی ہے تنہائی ہے
حسرت دید خدا جانے کہاں لائی ہے
جلوۂ حُسنِ بُتاں بُوئے گُل و نغمہ سا
اتنے پردوں میں بھی اس شوخ کی رُسوائی ہے
یا وہ دن تھے کی تِرا قُرب تھا حاصل مجھ کو
یا بس اب یاد تِری مُونسِ تنہائی ہے
جانے تُو ہے کہ تِری یاد مگر دل میں مِرے
تجھ سے ملتی ہوئی اک شکل نطر آئی ہے
تب میں سمجھوں کہ ہوئی جوشِ جنوں کی تکمیل
خود وہ کہنے لگیں وحشی مِرا سودائی ہے
وحشی کانپوری
No comments:
Post a Comment