عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یا مصطفیٰﷺ یا مجتبیٰﷺ خیرالورا جانِ جہاں
محبوب جس کو خود کہا بےشک خدا جان جہاں
حضرت عمر سے فاطمہؑ کہنے لگی بھائی سنو
تجھ کو مرادِ مصطفیٰﷺ کہتا رہا جان جہاں
بیمار ہیں ہم جانتے ہیں آپ ہیں غمخوار بس
ہم کو عطا ہو آپ کی خاک شفا جان جہاں
خالی نہیں لوٹا سوالی آج تک درسے سخی
مشکل کشا سردار کل اے انبیاء جان جہاں
کیسے نہ کرتے ہم بیاں اخلاق سیرت آپ کی
اخلاق میں کوئی نہیں ثانی تِراجان جہاں
عشرہ مبشرہ کو ملی جنت بشارت آپ سے
بروقت سب نے پھر وہاں کلمہ پڑھا جان جہاں
تھے مطمئن سارے سبھی آقاؐ تِرے اخلاق سے
کرتا رہا پھر واسطے سب کی دعا جان جہاں
وہ چاند روشن چھپ گیا پھر شرم سے کہنے لگا
سارا جہاں یوں نور سے جب جگمگا جان جہاں
داخل نہ ہوتے تھے اجازت کے سوا جبریلؑ گھر
وہ شان شوکت سرورِ کل انبیاء جان جہاں
اسم محمدﷺ راز ہے کلمہ شہادت درمیاں
تخلیق کل ارض و سماں خیرالورا جان جہاں
انسانیت کا درس یوں سب کو دیا آقا نبیﷺ
ہر ظلم مدفن کردیا پھر جابجا جان جہاں
تنہا نہیں ہیں موج طوفانوں سے تم انجم کہو
فریاد رس حاجت روا یا مصطفیٰؐ جان جہاں
سفر ندیم انجم زہری
No comments:
Post a Comment