Showing posts with label اثر صہبائی. Show all posts
Showing posts with label اثر صہبائی. Show all posts

Friday, 21 May 2021

لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں

 لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں

عمر تمام کٹ گئی کاوش احتساب میں

تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا

میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں

آہ یہ دل کہ جاں گداز جوشش اضطراب ہے

ہائے وہ دور جب کبھی لطف تھا اضطراب میں

Thursday, 20 May 2021

تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں

 تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں

سہ پہر الفت کے ہیں ستارے کہ شام غم میں چمک رہے ہیں

عجیب ہے سوز و ساز الفت، طرب فزا ہے گداز الفت

یہ دل میں شعلے بھڑک رہے ہیں کہ لالہ و گل مہک رہے ہیں

بہار ہے یا شراب رنگیں، نشاط افروز، کیف آگیں

گلوں کے ساغر چھلک رہے ہیں گلوں پہ بلبل چہک رہے ہیں

ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا

 ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا

لے کے ہمراہ مں داغ جگر جاؤں گا

عارض گُل ہوں نہ میں دیدۂ بلبل گُلچیں

ایک جھونکا ہوں فقط سن سے گُزر جاؤں گا

اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتئ عمر

میں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا

Wednesday, 19 May 2021

مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں

مِری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں

مگر اہلِ دل آوازِ شکستِ دل سمجھتے ہیں

گماں کاشانۂ رنگیں کا ہے جس پر نگاہوں کو

اسے اہلِ نظر گردِ رہِ منزل سمجھتے ہیں

الٰہی کشتئ دل بہہ رہی ہے کس سمندر میں

نکل آتی ہیں موجیں ہم جسے ساحل سمجھتے ہیں

Sunday, 25 April 2021

واعظ بھی خفا مجھ سے بت بھی ہیں خفا مجھ سے

 واعظ بھی خفا مجھ سے، بت بھی ہیں خفا مجھ سے

آخر وہ خطا ایسی سرزد ہوئی کیا مجھ سے

یہ سر تِرے در پر تھا، یا دار کا زیور تھا

یارب! درِ باطل پر سجدہ نہ ہوا مجھ سے

اِک نالۂ پیہم ہوں میں تجھ سے جدا ہو کر

کیا تُو بھی پشیماں ہے اب ہو کے جدا مجھ سے