لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں
عمر تمام کٹ گئی کاوش احتساب میں
تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا
میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں
آہ یہ دل کہ جاں گداز جوشش اضطراب ہے
ہائے وہ دور جب کبھی لطف تھا اضطراب میں
لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں
عمر تمام کٹ گئی کاوش احتساب میں
تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا
میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں
آہ یہ دل کہ جاں گداز جوشش اضطراب ہے
ہائے وہ دور جب کبھی لطف تھا اضطراب میں
تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں
سہ پہر الفت کے ہیں ستارے کہ شام غم میں چمک رہے ہیں
عجیب ہے سوز و ساز الفت، طرب فزا ہے گداز الفت
یہ دل میں شعلے بھڑک رہے ہیں کہ لالہ و گل مہک رہے ہیں
بہار ہے یا شراب رنگیں، نشاط افروز، کیف آگیں
گلوں کے ساغر چھلک رہے ہیں گلوں پہ بلبل چہک رہے ہیں
ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا
لے کے ہمراہ مں داغ جگر جاؤں گا
عارض گُل ہوں نہ میں دیدۂ بلبل گُلچیں
ایک جھونکا ہوں فقط سن سے گُزر جاؤں گا
اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتئ عمر
میں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا
مِری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں
مگر اہلِ دل آوازِ شکستِ دل سمجھتے ہیں
گماں کاشانۂ رنگیں کا ہے جس پر نگاہوں کو
اسے اہلِ نظر گردِ رہِ منزل سمجھتے ہیں
الٰہی کشتئ دل بہہ رہی ہے کس سمندر میں
نکل آتی ہیں موجیں ہم جسے ساحل سمجھتے ہیں
واعظ بھی خفا مجھ سے، بت بھی ہیں خفا مجھ سے
آخر وہ خطا ایسی سرزد ہوئی کیا مجھ سے
یہ سر تِرے در پر تھا، یا دار کا زیور تھا
یارب! درِ باطل پر سجدہ نہ ہوا مجھ سے
اِک نالۂ پیہم ہوں میں تجھ سے جدا ہو کر
کیا تُو بھی پشیماں ہے اب ہو کے جدا مجھ سے