ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا
لے کے ہمراہ مں داغ جگر جاؤں گا
عارض گُل ہوں نہ میں دیدۂ بلبل گُلچیں
ایک جھونکا ہوں فقط سن سے گُزر جاؤں گا
اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتئ عمر
میں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا
دیکھ جی بھر کے مگر توڑ نہ مجھ کو گُلچیں
ہاتھ بھی تُو نے لگایا تو بکھر جاؤں گا
ایک قطرہ ہوں مگر سیل محبت سے ترے
ہو سکے جو نہ سمندر سے بھی کر جاؤں گا
دُور گُلشن سے کسی دشت میں لے جا صیاد
ہم صفیروں کے ترانوں میں تو مر جاؤں گا
صحن گُلشن میں کئی دام بچھے ہیں اے اثر
اُڑ کے جاؤں بھی اگر میں تو کدھر جاؤں گا
اثر صہبائی
No comments:
Post a Comment