Showing posts with label فائق برہانپوری. Show all posts
Showing posts with label فائق برہانپوری. Show all posts

Monday, 6 April 2026

اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں

 اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں

قید غم سے روح کو آزاد کر لیتا ہوں میں

بیٹھے بیٹھے تجھ کو جس دم یاد کر لیتا ہوں میں

مایۂ صبر و سکوں برباد کر لیتا ہوں میں

وائے نادانی کہ پیدا کر کے تجھ سے بد ظنی

آپ اپنے دل کو خود ناشاد کر لیتا ہوں میں

Monday, 27 January 2025

کسی کی یاد پھر خلوت نشیں معلوم ہوتی ہے

 کسی کی یاد پھر خلوت نشیں معلوم ہوتی ہے

طبیعت آج کل اندوہ گیں معلوم ہوتی ہے

محبت کا ہر اک سجدہ بھی معراج محبت ہے

مقام عرش اب میری جبیں معلوم ہوتی ہے

کبھی شبنم کبھی تارے کبھی تم مسکراتے ہو

محبت کی ہر اک ساعت حسیں معلوم ہوتی ہے

Wednesday, 28 August 2024

خزاں سے کون سی شے چھین لی بہاروں نے

 خزاں سے کون سی شے چھین لی بہاروں نے

گُلوں کو آنکھ دکھائی چمن میں خاروں نے

چُھپا چُھپا کے رکھا تھا جسے بہاروں نے

اُگل دیا ہے وہی خُون لالہ زاروں نے

اسی مقام پہ پہنچے ہیں تیرے دیوانے

جہاں سے آنکھ چُرائی تھی ہوشیاروں نے

Tuesday, 27 August 2024

جس کو کہتے ہیں قضا یا موت جس کا نام ہے

 جس کو کہتے ہیں قضا یا موت جس کا نام ہے

واقعی وہ دائمی راحت کا اک پیغام ہے

التزام چارہ سازی اک خیال خام ہے

چارہ گر میرے لیے تکلیف میں آرام ہے

اف رے یہ بیگانگی ہمدرد ہو تو کون ہو

ایک دل تھا وہ بھی صرف کثرت آلام ہے