اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں
قید غم سے روح کو آزاد کر لیتا ہوں میں
بیٹھے بیٹھے تجھ کو جس دم یاد کر لیتا ہوں میں
مایۂ صبر و سکوں برباد کر لیتا ہوں میں
وائے نادانی کہ پیدا کر کے تجھ سے بد ظنی
آپ اپنے دل کو خود ناشاد کر لیتا ہوں میں
اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں
قید غم سے روح کو آزاد کر لیتا ہوں میں
بیٹھے بیٹھے تجھ کو جس دم یاد کر لیتا ہوں میں
مایۂ صبر و سکوں برباد کر لیتا ہوں میں
وائے نادانی کہ پیدا کر کے تجھ سے بد ظنی
آپ اپنے دل کو خود ناشاد کر لیتا ہوں میں
کسی کی یاد پھر خلوت نشیں معلوم ہوتی ہے
طبیعت آج کل اندوہ گیں معلوم ہوتی ہے
محبت کا ہر اک سجدہ بھی معراج محبت ہے
مقام عرش اب میری جبیں معلوم ہوتی ہے
کبھی شبنم کبھی تارے کبھی تم مسکراتے ہو
محبت کی ہر اک ساعت حسیں معلوم ہوتی ہے
خزاں سے کون سی شے چھین لی بہاروں نے
گُلوں کو آنکھ دکھائی چمن میں خاروں نے
چُھپا چُھپا کے رکھا تھا جسے بہاروں نے
اُگل دیا ہے وہی خُون لالہ زاروں نے
اسی مقام پہ پہنچے ہیں تیرے دیوانے
جہاں سے آنکھ چُرائی تھی ہوشیاروں نے
جس کو کہتے ہیں قضا یا موت جس کا نام ہے
واقعی وہ دائمی راحت کا اک پیغام ہے
التزام چارہ سازی اک خیال خام ہے
چارہ گر میرے لیے تکلیف میں آرام ہے
اف رے یہ بیگانگی ہمدرد ہو تو کون ہو
ایک دل تھا وہ بھی صرف کثرت آلام ہے