مِرے خدا! تو مِری قوم پر کرم کر دے
کہ اپنے غیب سے دشمن کا سر قلم کر دے
اُتر گئی ہے یہاں کی عوام سڑکوں پر
کہیں نہ قصرِ حکومت کو منہدم کر دے
معاف تجھ کو اسی شرط پر کریں گے ہم
تُو آ کے پیروں میں گِر جا سر اپنا خم کر دے
مِرے خدا! تو مِری قوم پر کرم کر دے
کہ اپنے غیب سے دشمن کا سر قلم کر دے
اُتر گئی ہے یہاں کی عوام سڑکوں پر
کہیں نہ قصرِ حکومت کو منہدم کر دے
معاف تجھ کو اسی شرط پر کریں گے ہم
تُو آ کے پیروں میں گِر جا سر اپنا خم کر دے
کیسا رشتہ ہے نارسائی کا
بھائی دشمن بناہے بھائی کا
سرپہ حفظ و امان ہے صدقہ
میرے والد کی پارسائی کا
آج تک ہم سمجھ نہیں پائے
کیا سبب ہے تری جدائی کا
کوئی حصے کی بھلائی نہیں دیتا اس کو
جب خدا اپنی رسائی نہیں دیتا اس کو
کس قدر پڑ گئے انسان یہاں غفلت میں
خوفِ الله دکھائی نہیں دیتا اس کو
کارِ دنیا میں جو مصروف رہا کرتا ہے
درِ محبوب رسائی نہیں دیتا اس کو
نعت شریف
نام احمدﷺ سے یہاں جس کو محبت ہو گی
ربِ کعبہ کو فقط اس سے ہی قربت ہو گی
مرحبا صلے علی کی ہیں صدائیں لب پر
روزِ محشر میں یہی ورد ضمانت ہو گی
نعت پڑھتے ہوئے پہنچوں جو میں شہرِ طیبہ
اے خدا! کب یہ گنہ گار کی قسمت ہو گی
کتنا مشکل ہے یہاں صاحبِ ایماں ہونا
"آدمی کوبھی میسر نہیں انساں ہونا"
وہ تو عابد بھی تھا زاہد بھی تھا جنات بھی تھا
کیا ضروری تھا اس ابلیس کا شیطاں ہونا
مدرسہ جا کے ریاضت کا ہنر بھی سیکھیں
اتنا آسان نہیں حافظِ قرآں ہونا
چل یہاں سے یہ درِ اغیار ہے
دل سیاسی ہے زباں تلوار ہے
چاشنی اس کی زباں کی دیکھ مت
کیا کہیں اس سے بڑا ہتھیار ہے
سارے مطلب کے تعلق ہیں یہاں
سب کو اپنے کام سے درکار ہے
چل یہاں سے یہ درِ اغیار ہے
دل سیاسی ہے زباں تلوار ہے
چاشنی اس کی زباں کی دیکھ مت
کیا کہِیں اس سے بڑا ہتھیار ہے
سارے مطلب کے تعلق ہیں یہاں
سب کو اپنے کام سے درکار ہے
جیو جینے دو لوگوں کو سبھی کو شاد رہنے دو
یہ دنیا خوب صورت ہے اسے آباد رہنے دو
نہ پھر بھڑکاؤ شعلوں کو نہ رکھو بم کتابوں میں
یہ بچے پھول سے بچے ہیں ان کو شاد رہنے دو
دھواں اگلے گی یہ دھرتی لہو کی بارشیں ہوں گی
نہ اتنا ظلم فرماؤ،۔ ہمیں آباد رہنے دو
ایسی چاہت مجھے عطا کر دے
عشق ہو جائے تو فنا کر دے
قوم و ملت کا جذبہ زندہ رہے
دل میں تابندہ مدعا کر دے
عقدۂ زیست مجھ پہ کھل جائے
تُو حقیقت سے آشنا کر دے
اس کا انداز ظالمانہ تھا
پھر بھی خاموش سب زمانہ تھا
اس کے ہونے سے کیا ہوا لوگو
اس کا ہونا تو اک بہانہ تھا
وہ نہ آیا ہمارے پُرسے کو
ورنہ ہر گھر میں آنا جانا تھا
یہ لہو کس کا ہے
یہ لہو مقدس ہے
یہ لہو امانت ہے
اس زمیں کی سانسوں کا
آنے والی نسلوں کا
یہ لہو حوالہ ہے
نیا سورج
نئی دھرتی پہ دیکھوں
کھلی ہو دھوپ تازہ
راستوں پر میسر ہو
نئے موسم کی خوشبو
ملیں دل کو حسیں رنگیں اُڑانیں
حساب صاف رکھو
اپنے گھر
اپنے دل کا بھی
بے خیالی میں محبتوں کو
محبت کا نام دیتا ہے
بڑھے جو کوئی تمہاری طرف
بچھڑنے والے تو اکثر
بچھڑ ہی جاتے ہیں
مگر کسی کی جدائی
عذاب لگتی ہے
مگر کسی کے نہ ہونے سے
دل تڑپتا ہے
گزرے جو حوادث نہیں آئیں گے گماں میں
ہے خاک بدن، چاک جگر، عشقِ بُتاں میں
استاد کسی اور کو خاطرمیں نہ لائے
اترائے سرِ عام کہ ہوں اہلِ زباں میں
ہر لفظ ہے اشعار کا آواز دلوں کی
ہے نقص کہیں بول مِرے طرزِ بیاں میں
ان وفاؤں کا فقط اتنا صِلہ دے ہم کو
پیار گر جرم ہے تو آ کے سزا دے ہم کو
تیرے عاشق، تِری قسمت، تِری منزل ہیں ہم
ہیں اگر، بیچ کی دیوار گِرا دے ہم کو
پیکرِ خاک ہیں جاناں کہ ہیں واقف اس سے
دُھول صحرا کی سمجھ کر ہی اُڑا دے ہم کو