Showing posts with label رئیس احمد. Show all posts
Showing posts with label رئیس احمد. Show all posts

Thursday, 21 July 2022

مرے خدا تو مری قوم پر کرم کر دے

 مِرے خدا! تو مِری قوم پر کرم کر دے

کہ اپنے غیب سے دشمن کا سر قلم کر دے

اُتر گئی ہے یہاں کی عوام سڑکوں پر

کہیں نہ قصرِ حکومت کو منہدم کر دے

معاف تجھ کو اسی شرط پر کریں گے ہم

تُو آ کے پیروں میں گِر جا سر اپنا خم کر دے

Tuesday, 8 February 2022

کیسا رشتہ ہے نارسائی کا

 کیسا رشتہ ہے نارسائی کا

بھائی دشمن بناہے بھائی کا

سرپہ حفظ و امان ہے صدقہ

میرے والد کی پارسائی کا

آج تک ہم سمجھ نہیں پائے

کیا سبب ہے تری جدائی کا

Sunday, 6 February 2022

کوئی حصے کی بھلائی نہیں دیتا اس کو

 کوئی حصے کی بھلائی نہیں دیتا اس کو

جب خدا اپنی رسائی نہیں دیتا اس کو

کس قدر پڑ گئے انسان یہاں غفلت میں

خوفِ الله دکھائی نہیں دیتا اس کو

کارِ دنیا میں جو مصروف رہا کرتا ہے

درِ محبوب رسائی نہیں دیتا اس کو

Thursday, 25 November 2021

نام احمد سے یہاں جس کو محبت ہو گی

 نعت شریف


نام احمدﷺ سے یہاں جس کو محبت ہو گی

ربِ کعبہ کو فقط اس سے ہی قربت ہو گی

مرحبا صلے علی کی ہیں صدائیں لب پر

روزِ محشر میں یہی ورد ضمانت ہو گی

نعت پڑھتے ہوئے پہنچوں جو میں شہرِ طیبہ

اے خدا! کب یہ گنہ گار کی قسمت ہو گی

کتنا مشکل ہے یہاں صاحب ایماں ہونا

 کتنا مشکل ہے یہاں صاحبِ ایماں ہونا

"آدمی کوبھی میسر نہیں انساں ہونا"

وہ تو عابد بھی تھا زاہد بھی تھا جنات بھی تھا

کیا ضروری تھا اس ابلیس کا شیطاں ہونا

مدرسہ جا کے ریاضت کا ہنر بھی سیکھیں

اتنا آسان نہیں حافظِ قرآں ہونا

Monday, 22 November 2021

چل یہاں سے یہ در اغیار ہے

 چل یہاں سے یہ درِ اغیار ہے

دل سیاسی ہے زباں تلوار ہے

چاشنی اس کی زباں کی دیکھ مت

کیا کہیں اس سے بڑا ہتھیار ہے

سارے مطلب کے تعلق ہیں یہاں

سب کو اپنے کام سے درکار ہے

Sunday, 12 September 2021

چل یہاں سے یہ در اغیار ہے

 چل یہاں سے یہ درِ اغیار ہے

دل سیاسی ہے زباں تلوار ہے

چاشنی اس کی زباں کی دیکھ مت

کیا کہِیں اس سے بڑا ہتھیار ہے

سارے مطلب کے تعلق ہیں یہاں

سب کو اپنے کام سے درکار ہے

Friday, 3 September 2021

جیو جینے دو لوگوں کو سبھی کو شاد رہنے دو

 جیو جینے دو لوگوں کو سبھی کو شاد رہنے دو

یہ دنیا خوب صورت ہے اسے آباد رہنے دو

نہ پھر بھڑکاؤ شعلوں کو نہ رکھو بم کتابوں میں

یہ بچے پھول سے بچے ہیں ان کو شاد رہنے دو

دھواں اگلے گی یہ دھرتی لہو کی بارشیں ہوں گی

نہ اتنا ظلم فرماؤ،۔ ہمیں آباد رہنے دو

Sunday, 29 August 2021

ایسی چاہت مجھے عطا کر دے

 ایسی چاہت مجھے عطا کر دے

عشق ہو جائے تو فنا کر دے

قوم و ملت کا جذبہ زندہ رہے

دل میں تابندہ مدعا کر دے

عقدۂ زیست مجھ پہ کھل جائے

تُو حقیقت سے آشنا کر دے

Wednesday, 31 March 2021

اس کا انداز ظالمانہ تھا

 اس کا انداز ظالمانہ تھا

پھر بھی خاموش سب زمانہ تھا

اس کے ہونے سے کیا ہوا لوگو

اس کا ہونا تو اک بہانہ تھا

وہ نہ آیا ہمارے پُرسے کو

ورنہ ہر گھر میں آنا جانا تھا

Tuesday, 30 March 2021

یہ لہو کس کا ہے یہ لہو مقدس ہے

 یہ لہو کس کا ہے

یہ لہو مقدس ہے

یہ لہو امانت ہے

اس زمیں کی سانسوں کا

آنے والی نسلوں کا

یہ لہو حوالہ ہے

Monday, 29 March 2021

نیا سورج نئی دھرتی پہ دیکھوں

 نیا سورج

نئی دھرتی پہ دیکھوں

کھلی ہو دھوپ تازہ

راستوں پر میسر ہو

نئے موسم کی خوشبو

ملیں دل کو حسیں رنگیں اُڑانیں

Sunday, 28 March 2021

حساب صاف رکھو اپنے گھر اپنے دل کا بھی

 حساب صاف رکھو

اپنے گھر

اپنے دل کا بھی

بے خیالی میں محبتوں کو

محبت کا نام دیتا ہے

بڑھے جو کوئی تمہاری طرف

بچھڑنے والے تو اکثر بچھڑ ہی جاتے ہیں

 بچھڑنے والے تو اکثر

بچھڑ ہی جاتے ہیں

مگر کسی کی جدائی

عذاب لگتی ہے

مگر کسی کے نہ ہونے سے

دل تڑپتا ہے

گزرے جو حوادث نہیں آئیں گے گماں میں

 گزرے جو حوادث نہیں آئیں گے گماں میں

ہے خاک بدن، چاک جگر، عشقِ بُتاں میں

استاد کسی اور کو خاطرمیں نہ لائے

اترائے سرِ عام کہ ہوں اہلِ زباں میں

ہر لفظ ہے اشعار کا آواز دلوں کی

ہے نقص کہیں بول مِرے طرزِ بیاں میں

Sunday, 21 March 2021

ان وفاؤں کا فقط اتنا صلہ دے ہم کو

 ان وفاؤں کا فقط اتنا صِلہ دے ہم کو

پیار گر جرم ہے تو آ کے سزا دے ہم کو

تیرے عاشق، تِری قسمت، تِری منزل ہیں ہم

ہیں اگر، بیچ کی دیوار گِرا دے ہم کو

پیکرِ خاک ہیں جاناں کہ ہیں واقف اس سے

دُھول صحرا کی سمجھ کر ہی اُڑا دے ہم کو