چل یہاں سے یہ درِ اغیار ہے
دل سیاسی ہے زباں تلوار ہے
چاشنی اس کی زباں کی دیکھ مت
کیا کہِیں اس سے بڑا ہتھیار ہے
سارے مطلب کے تعلق ہیں یہاں
سب کو اپنے کام سے درکار ہے
سچ یہاں پر بولنا توہینِ سچ
جھوٹ کا گرما گرم بازار ہے
خامشی تیرے لیے بہتر رئیس
دشمنوں کی ہو گئی بھرمار ہے
رئیس احمد
No comments:
Post a Comment