Sunday, 12 September 2021

اک تماشا بنا دیا انصاف

 اک تماشا بنا دیا انصاف

ہر نظر سے گرا دیا انصاف

بس اسی دن سے ہیں زوال کی سمت

ہم نے جب سے بھلا دیا انصاف

میرے منصف نے بھاری قدموں کے

راستے میں بچھا دیا انصاف

اپنا مٹنا بھی اب مقدر ہے

آپ نے بھی مٹا دیا انصاف

قتل کر کے بھی اہلِ قدرت نے

چُٹکیوں میں اُڑا دیا انصاف

جیسی خواہش ہے بھائی لوگوں کی

تم نے ویسا سنا دیا انصاف

ایک اک کر کے ہو گئے بے نور

دل، نظر، غم، وفا، دیا، انصاف


راغب تحسین

No comments:

Post a Comment