اک تماشا بنا دیا انصاف
ہر نظر سے گرا دیا انصاف
بس اسی دن سے ہیں زوال کی سمت
ہم نے جب سے بھلا دیا انصاف
میرے منصف نے بھاری قدموں کے
راستے میں بچھا دیا انصاف
اپنا مٹنا بھی اب مقدر ہے
آپ نے بھی مٹا دیا انصاف
قتل کر کے بھی اہلِ قدرت نے
چُٹکیوں میں اُڑا دیا انصاف
جیسی خواہش ہے بھائی لوگوں کی
تم نے ویسا سنا دیا انصاف
ایک اک کر کے ہو گئے بے نور
دل، نظر، غم، وفا، دیا، انصاف
راغب تحسین
No comments:
Post a Comment