دل کہتا ہے مجھ سے خدا دیکھ رہا ہے
سوچوں میں اتر جاتا ہوں، کیا دیکھ رہا ہے
ہر سمت نظر آتی ہے اک قوسِ قزح سی
اک تُو ہے کہ بس رنگِ حنا دیکھ رہا ہے
رکھا ہے جو سر میں نے کبھی در پہ تمہارے
دل بولا؛ کوئی رنگِ رِیا دیکھ رہا ہے
اب عشق کی نظریں ہی نہیں حسن کی جانب
بجھتے ہوئے شعلے کی ادا دیکھ رہا ہے
کیوں آ کے دعا رک سی گئی لب پہ مِرے آج
ہر حرفِ دعا، دستِ دعا دیکھ رہا ہے
میں جیسے کوئی آئینہ ہوں اس کے مقابل
اور اس میں وہ شوخ اپنی ادا دیکھ رہا ہے
دل پر وہ ہوئی عشق ستم خالد شبیر
ہر لمحہ نیا زخم لگا دیکھ رہا ہے
خالد شبیر احمد
No comments:
Post a Comment