فقیر ہوں میرے کاسے میں مال و زر نہیں ہے
اسی لیے تو مِری رائے معتبر نہیں ہے
اسے پتہ ہے تو کب کس سے ملنے جاتا ہے
وہ چپ ضرور ہے لیکن وہ بے خبر نہیں ہے
گزار دیں گے یونہی عمر چلتے پھرتے ہوئے
ہم ایسے خانہ بدوشوں کا کوئی گھر نہیں ہے
طلسم پھونکتا رہتا ہے روز مجھ پہ نئے
مجھے خوشی ہے تِرا ہجر بے ثمر نہیں ہے
تپش ہے دھوپ ہے گرد و غبار ہے، لیکن
یہ کیسا شہر ہے جس میں کوئی شجر نہیں ہے
حمزہ یعقوب
No comments:
Post a Comment