Showing posts with label سرفراز شاہد. Show all posts
Showing posts with label سرفراز شاہد. Show all posts

Wednesday, 11 October 2023

قابض رہا ہے دل پہ جو سلطان کی طرح

زعفرانی غزل


 قابض رہا ہے دل پہ جو سلطان کی طرح 

آخر نکل گیا شہِ ایران کی طرح 

ظاہر میں سرد و زرد ہے کاغان کی طرح 

لیکن مزاج اس کا ہے ملتان کی طرح 

راز و نیاز میں بھی اکڑ فُوں نہیں گئی 

وہ خط بھی لکھ رہا ہے تو چالان کی طرح 

Friday, 18 November 2022

سينٹ کی کجلے کی اور غازے کی گلکاری کے بعد

 سينٹ کی کجلے کی اور غازے کی گلکاری کے بعد

وہ حسين لگتی ہے، لیکن کتنی تياری کے بعد

مدتوں کے بعد اس کو ديکھ کر ايسا لگا

جيسے روزہ دار کی حالت ہو افطاری کے بعد

باندھ کر سہرہ نظر آيا يوں نوشہ مياں

جس طرح مجرم دکھائی دے گرفتاری کے بعد

Sunday, 23 October 2022

لبوں پہ آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں

 لبوں پہ آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں​

غزل کہنا بھی اب تو ہو گیا دشوار سردی میں

محلے بھر کے بچوں نے دھکیلا صبح دم اس کو

مگر ہوتی نہیں اسٹارٹ اپنی کار سردی میں

مئی اور جون کی گرمی میں جو دلبر کو لکھا تھا

اسی خط کا جواب آیا ہے آخر کار سردی میں

Tuesday, 20 September 2022

شب غم کے اندھيروں ميں کمی ہونے نہيں ديتے

 شب غم کے اندھيروں ميں کمی ہونے نہيں ديتے

يہ کيسے بلب ہيں جو روشنی ہونے نہيں ديتے

مسلمانوں کی خواہش ہے کہ وہ سب ايک ہو جائيں

مگر ان کو اکھٹا مولوی ہونے نہيں ديتے

ہے نيچے کھردری پتلون، اوپر شرٹ مردانہ

مگر ايسا جہاں کے چودہری ہونے نہيں ديتے

Sunday, 18 September 2022

یہی کالج ہے وہ ہمدم جہاں سلطانہ پڑھتی تھی

یہی کالج ہے وہ ہمدم جہاں سلطانہ پڑھتی تھی


 وہ اس کالج کی شہزادی تھی اور شاہانہ پڑھتی تھی

وہ بے باکانہ آتی تھی، وہ بے باکانہ پڑھتی تھی

بڑے مشکل سبق تھے جن کو وہ روزانہ پڑھتی تھی

وہ لڑکی تھی مگر مضمون سب مردانہ پڑھتی تھی

یہی کالج ہے وہ ہمدم جہاں سلطانہ پڑھتی تھی

Tuesday, 6 September 2022

سوٹ کو ماضی کا اک افسانہ کہہ

 سوٹ کو ماضی کا اک افسانہ کہہ

مجھ سے مسٹر کو بھی اب مولانہ کھ

دوستی باہر حسيناؤں سے رکھ

گھر ميں بيوی کو چراغ خانہ کہہ

دست پنجہ لے جو مطلب کے لیے

ايسے دستِ يار کو دستانہ کہہ

Saturday, 3 September 2022

ظاہر ميں سرد و زرد ہے کاغان کی طرح

 ظاہر ميں سرد و زرد ہے کاغان کی طرح

ليکن مزاج اس کا ہے ملتان کي طرح

راز و نياز ميں بھی اکڑفوں نہيں گئی

وہ خط بھی لکھتا ہے تو چالان کی طرح

لقمہ حلال کا جو ملا اہلکار کو

اس نے چبا کے تھوک ديا پان کی طرح

ہے یوں بشر کے ساتھ مقدر لگا ہوا

 ہے یوں بشر کے ساتھ مقدر لگا ہوا

کتے کے پیچھے جیسے ہو پتھر لگا ہوا

وہ شخص ہے کوئی بڑا افسر لگا ہوا

مکھن ہے جس کو پورا کنستر لگا ہوا

اس نے مجھے خدائے مجازی نہیں کہا

روزِ ازل سے جس کا ہوں شوہر لگا ہوا

Monday, 9 August 2021

منافع مشترک ہے اور خسارے ایک جیسے ہیں

 ایک جیسے ہیں


منافع مشترک ہے اور خسارے ایک جیسے ہیں 

کہ ہم دونوں کی قسمت کے ستارے ایک جیسے ہیں 

میں اک چھوٹا سا افسر ہوں وہ اک موٹا سا مل اونر 

مگر دونوں کے گوشوارے ایک جیسے ہیں 

اسے ضعف بصیرت اسے ضعف بصارت ہے 

ہمارے دیدہ ور سارے کے سارے ایک جیسے ہیں