زعفرانی غزل
قابض رہا ہے دل پہ جو سلطان کی طرح
آخر نکل گیا شہِ ایران کی طرح
ظاہر میں سرد و زرد ہے کاغان کی طرح
لیکن مزاج اس کا ہے ملتان کی طرح
راز و نیاز میں بھی اکڑ فُوں نہیں گئی
وہ خط بھی لکھ رہا ہے تو چالان کی طرح
زعفرانی غزل
قابض رہا ہے دل پہ جو سلطان کی طرح
آخر نکل گیا شہِ ایران کی طرح
ظاہر میں سرد و زرد ہے کاغان کی طرح
لیکن مزاج اس کا ہے ملتان کی طرح
راز و نیاز میں بھی اکڑ فُوں نہیں گئی
وہ خط بھی لکھ رہا ہے تو چالان کی طرح
سينٹ کی کجلے کی اور غازے کی گلکاری کے بعد
وہ حسين لگتی ہے، لیکن کتنی تياری کے بعد
مدتوں کے بعد اس کو ديکھ کر ايسا لگا
جيسے روزہ دار کی حالت ہو افطاری کے بعد
باندھ کر سہرہ نظر آيا يوں نوشہ مياں
جس طرح مجرم دکھائی دے گرفتاری کے بعد
لبوں پہ آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں
غزل کہنا بھی اب تو ہو گیا دشوار سردی میں
محلے بھر کے بچوں نے دھکیلا صبح دم اس کو
مگر ہوتی نہیں اسٹارٹ اپنی کار سردی میں
مئی اور جون کی گرمی میں جو دلبر کو لکھا تھا
اسی خط کا جواب آیا ہے آخر کار سردی میں
شب غم کے اندھيروں ميں کمی ہونے نہيں ديتے
يہ کيسے بلب ہيں جو روشنی ہونے نہيں ديتے
مسلمانوں کی خواہش ہے کہ وہ سب ايک ہو جائيں
مگر ان کو اکھٹا مولوی ہونے نہيں ديتے
ہے نيچے کھردری پتلون، اوپر شرٹ مردانہ
مگر ايسا جہاں کے چودہری ہونے نہيں ديتے
یہی کالج ہے وہ ہمدم جہاں سلطانہ پڑھتی تھی
وہ اس کالج کی شہزادی تھی اور شاہانہ پڑھتی تھی
وہ بے باکانہ آتی تھی، وہ بے باکانہ پڑھتی تھی
بڑے مشکل سبق تھے جن کو وہ روزانہ پڑھتی تھی
وہ لڑکی تھی مگر مضمون سب مردانہ پڑھتی تھی
یہی کالج ہے وہ ہمدم جہاں سلطانہ پڑھتی تھی
سوٹ کو ماضی کا اک افسانہ کہہ
مجھ سے مسٹر کو بھی اب مولانہ کھ
دوستی باہر حسيناؤں سے رکھ
گھر ميں بيوی کو چراغ خانہ کہہ
دست پنجہ لے جو مطلب کے لیے
ايسے دستِ يار کو دستانہ کہہ
ظاہر ميں سرد و زرد ہے کاغان کی طرح
ليکن مزاج اس کا ہے ملتان کي طرح
راز و نياز ميں بھی اکڑفوں نہيں گئی
وہ خط بھی لکھتا ہے تو چالان کی طرح
لقمہ حلال کا جو ملا اہلکار کو
اس نے چبا کے تھوک ديا پان کی طرح
ہے یوں بشر کے ساتھ مقدر لگا ہوا
کتے کے پیچھے جیسے ہو پتھر لگا ہوا
وہ شخص ہے کوئی بڑا افسر لگا ہوا
مکھن ہے جس کو پورا کنستر لگا ہوا
اس نے مجھے خدائے مجازی نہیں کہا
روزِ ازل سے جس کا ہوں شوہر لگا ہوا
ایک جیسے ہیں
منافع مشترک ہے اور خسارے ایک جیسے ہیں
کہ ہم دونوں کی قسمت کے ستارے ایک جیسے ہیں
میں اک چھوٹا سا افسر ہوں وہ اک موٹا سا مل اونر
مگر دونوں کے گوشوارے ایک جیسے ہیں
اسے ضعف بصیرت اسے ضعف بصارت ہے
ہمارے دیدہ ور سارے کے سارے ایک جیسے ہیں