Showing posts with label سحر نورین. Show all posts
Showing posts with label سحر نورین. Show all posts

Saturday, 4 December 2021

یہ زندگی اک زہر ہے تو زہر پیے جا

 یہ زندگی اک زہر ہے تُو زہر پیے جا

جینا ہے تو ہر درد کو چپ چاپ سہے جا

جینے کی کوئی آس رہے پاس مِرے بھی

کچھ خواب اجالوں کے ہتھیلی پہ دھرے جا

جس سے یہ غمِ عشق ہمیشہ رہے قائم

ایسا کوئی تو مجھ پہ تُو الزام دئیے جا

Thursday, 2 December 2021

چاہا ہے اور کسی کو نہ ہی سوچا اب تک

 چاہا ہے اور کسی کو نہ ہی سوچا اب تک

ہاں مسلسل ہی تِرا خواب ہے دیکھا اب تک

پاس آئی نہ ہی منزل نے پکارا مجھ کو

تجھ سے بچھڑی ہوں تو ہے پیروں میں رستہ اب تک

حسرتیں، وحشتیں سینے سے لگا رکھی ہیں

ہے سروکار تِرے ہجر سے گہرا اب تک

Wednesday, 1 December 2021

ذکر آتا ہے تیرا ہر اک بات میں

 ذکر آتا ہے تیرا ہر اک بات میں

کیسے زندہ رہوں ایسے حالات میں

ایک صفحے پہ سارے نہ لکھ پاؤں گی

صدمے جتنے سہے ہجر کی رات میں

گھر کے سب کام یوں ہی پڑے رہتے ہیں

روٹی جل جاتی ہے اب خیالات میں

Monday, 29 November 2021

تلاش لاکھ کیا میں نے پر نہیں آیا

 تلاش لاکھ کیا میں نے پر نہیں آیا

مجھے فرار کا رستہ نظر نہیں آیا

اٹھے جو ہاتھ خدا سے تجھے ہی مانگا ہے

مگر دعا میں ابھی تک اثر نہیں آیا

چراغ جلتے رہے رات بھر نگاہوں کے

سحر تلک مِرا ہرجائی گھر نہیں آیا

Saturday, 27 November 2021

کوئی ترکیب کارگر نہ ہوئی

 کوئی ترکیب کارگر نہ ہوئی

عمر ہنستے ہوئے گزر نہ ہوئی

وصلِ خورشید کو لگا گِرہن

پھر شبِ ہجر کی سحر نہ ہوئی

صرف ٹوٹی روانی دھڑکن کی

کُل اذیت بھی دار پر نہ ہوئی

Thursday, 25 November 2021

اس کی باتوں کو دل پہ لینا چھوڑ دیا ہے جب سے

 اس کی باتوں کو دل پہ لینا چھوڑ دیا ہے جب سے

سحر یقین مانو ہم بہت خوش رہتے ہیں تب سے

اپنی ہستی سے غرض ہے اپنی مستی میں مگن

اب تو ہر دم خلوت ہی مانگتے ہیں ہم اس رب سے

دھوکہ کسی کے ملنے کا، نہ غم کوئی بچھڑنے کا

ایسے مزاج بھی بدلتے ہیں سحر کبھی سبب سے

Saturday, 11 September 2021

زندہ ہیں ہم جو ہجر کے سود و زیاں کے ساتھ

 زندہ ہیں ہم جو ہجر کے سود و زیاں کے ساتھ

کٹ تو رہی ہے زندگی پر امتحاں کے ساتھ

ہوتا نہیں گزر مِرے گھر سے بہار کا

اب واسطہ پڑا ہے مسلسل خزاں کے ساتھ

رُسوائی کا جو چھینٹا ہے دامن پہ پڑ گیا

دُھل جائے گا یہ داغ بھی عمرِ رواں کے ساتھ