یہ زندگی اک زہر ہے تُو زہر پیے جا
جینا ہے تو ہر درد کو چپ چاپ سہے جا
جینے کی کوئی آس رہے پاس مِرے بھی
کچھ خواب اجالوں کے ہتھیلی پہ دھرے جا
جس سے یہ غمِ عشق ہمیشہ رہے قائم
ایسا کوئی تو مجھ پہ تُو الزام دئیے جا
یہ زندگی اک زہر ہے تُو زہر پیے جا
جینا ہے تو ہر درد کو چپ چاپ سہے جا
جینے کی کوئی آس رہے پاس مِرے بھی
کچھ خواب اجالوں کے ہتھیلی پہ دھرے جا
جس سے یہ غمِ عشق ہمیشہ رہے قائم
ایسا کوئی تو مجھ پہ تُو الزام دئیے جا
چاہا ہے اور کسی کو نہ ہی سوچا اب تک
ہاں مسلسل ہی تِرا خواب ہے دیکھا اب تک
پاس آئی نہ ہی منزل نے پکارا مجھ کو
تجھ سے بچھڑی ہوں تو ہے پیروں میں رستہ اب تک
حسرتیں، وحشتیں سینے سے لگا رکھی ہیں
ہے سروکار تِرے ہجر سے گہرا اب تک
ذکر آتا ہے تیرا ہر اک بات میں
کیسے زندہ رہوں ایسے حالات میں
ایک صفحے پہ سارے نہ لکھ پاؤں گی
صدمے جتنے سہے ہجر کی رات میں
گھر کے سب کام یوں ہی پڑے رہتے ہیں
روٹی جل جاتی ہے اب خیالات میں
تلاش لاکھ کیا میں نے پر نہیں آیا
مجھے فرار کا رستہ نظر نہیں آیا
اٹھے جو ہاتھ خدا سے تجھے ہی مانگا ہے
مگر دعا میں ابھی تک اثر نہیں آیا
چراغ جلتے رہے رات بھر نگاہوں کے
سحر تلک مِرا ہرجائی گھر نہیں آیا
کوئی ترکیب کارگر نہ ہوئی
عمر ہنستے ہوئے گزر نہ ہوئی
وصلِ خورشید کو لگا گِرہن
پھر شبِ ہجر کی سحر نہ ہوئی
صرف ٹوٹی روانی دھڑکن کی
کُل اذیت بھی دار پر نہ ہوئی
اس کی باتوں کو دل پہ لینا چھوڑ دیا ہے جب سے
سحر یقین مانو ہم بہت خوش رہتے ہیں تب سے
اپنی ہستی سے غرض ہے اپنی مستی میں مگن
اب تو ہر دم خلوت ہی مانگتے ہیں ہم اس رب سے
دھوکہ کسی کے ملنے کا، نہ غم کوئی بچھڑنے کا
ایسے مزاج بھی بدلتے ہیں سحر کبھی سبب سے
زندہ ہیں ہم جو ہجر کے سود و زیاں کے ساتھ
کٹ تو رہی ہے زندگی پر امتحاں کے ساتھ
ہوتا نہیں گزر مِرے گھر سے بہار کا
اب واسطہ پڑا ہے مسلسل خزاں کے ساتھ
رُسوائی کا جو چھینٹا ہے دامن پہ پڑ گیا
دُھل جائے گا یہ داغ بھی عمرِ رواں کے ساتھ