یہ زندگی اک زہر ہے تُو زہر پیے جا
جینا ہے تو ہر درد کو چپ چاپ سہے جا
جینے کی کوئی آس رہے پاس مِرے بھی
کچھ خواب اجالوں کے ہتھیلی پہ دھرے جا
جس سے یہ غمِ عشق ہمیشہ رہے قائم
ایسا کوئی تو مجھ پہ تُو الزام دئیے جا
ہرگز یہ مجھے چین سے جینے نہیں دیں گے
جاتے ہوئے اپنے یہ سبھی رنج لئے جا
آخر کو تجھے تھک کے پلٹنا ہے زمیں پر
جا شوق سے شہرت کی بلندی پہ اُڑے جا
پوچھیں گے مجھے لوگ جدائی کا سبب تو؟
سُن! جانے سے پہلے مرے یہ ہونٹ سئے جا
یہ شوق سخن کا تُو نے بخشا تھا سحر کو
اب شوق کی تکمیل کو اک ہجر دئیے جا
سحر نورین
No comments:
Post a Comment